Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
تِلۡكَ ٱلدَّارُ ٱلۡأٓخِرَةُ نَجۡعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوّٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا فَسَادٗاۚ وَٱلۡعَٰقِبَةُ لِلۡمُتَّقِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
وہ آخرت کا گھر تو ہم اُن لوگوں کے لیے مخصوص کر دیں گے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں اور انجام کی بھَلائی متقین ہی کے لیے ہے
English (Sahih International)
That home of the Hereafter We assign to those who do not desire exaltedness upon the earth or corruption. And the [best] outcome is for the righteous
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 83 تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا ط ”دراصل یہاں پر اقتدار کی طلب اور ہوس کی مذمت ہے نہ کہ بوقت ضرورت اقتدار کی ذمہ داری سنبھالنے کی۔ جیسے حضور ﷺ کی انقلابی جدوجہدّ کے نتیجے میں مدینہ کی چھوٹی سی ریاست وجود میں آگئی تو آپ ﷺ کو اس کے سربراہ کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالنا پڑی۔ لیکن نہ تو آپ ﷺ کی جدوجہد کا مقصد حصول اقتدار تھا اور نہ ہی آپ ﷺ اس کے خواہش مند تھے۔ چناچہ اقتدار کا خواہش مند ہونے اور اقتدار کی ذمہ داری نبھانے کے لیے آمادہ ہوجانے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اس حوالے سے یہاں پر واضح کیا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یقیناً آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے مخصوص کر رکھا ہے جو اس کے دین کی سر بلندی کے لیے جدوجہد میں خود کو کھپا رہے ہیں۔ لیکن اس کٹھن راستے کے مسافروں کو اس حقیقت سے آگاہ ہونا چاہیے کہ اگر اس جدوجہد کے دوران میں دل کے کسی گوشے میں ہوس اقتدار کی کوئی کو نپل پھوٹ پڑی یا اپنا نام اونچا کرنے کی خواہش نے نفس کے کسی کونے میں جڑ پکڑ لی تو اللہ کے ہاں ایسا ”مجاہد“ نااہل disqualified قرار پائے گا اور اس کی ہر ”جدوجہد“ مستردکر دی جائے گی۔وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ ”آخرت کی نعمتوں اور اس کے عیش و آرام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں کے لیے مخصوص کر رکھا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 83 and 84.
جنت کی آبادی میں بسنے کے قابل وہ لوگ ہیں جن کے سینے اپنی بڑائی کے احساس سے خالی ہوں جو خدا کی بڑائی کو اس طرح پائیں کہ اپنی طرف انھیں چھوٹائی کے سوا اور کچھ نظر نہ آئے۔
فساد یہ ہے کہ آدمی خدا کی اسکیم سے موافقت نہ کرے۔ وہ خدا کی دنیا میں خدا کی مرضی کے خلاف چلنے لگے۔ جو لوگ کبر سے خالی ہوجائیں وہ لازمی طور پر فساد سے بھی خالی ہوجاتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے اندر یہ اعلیٰ اوصاف پیدا ہوجائیں وہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے ابدی باغوں میں بسا ئے جائیں گے۔