Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 28:80 Prev 28:78


Arabic

فَخَرَجَ عَلَىٰ قَوۡمِهِۦ فِي زِينَتِهِۦۖ قَالَ ٱلَّذِينَ يُرِيدُونَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا يَٰلَيۡتَ لَنَا مِثۡلَ مَآ أُوتِيَ قَٰرُونُ إِنَّهُۥ لَذُو حَظٍّ عَظِيمٖ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

ایک روز وہ اپنی قوم کے سامنے اپنے پُورے ٹھاٹھ میں نکلا جو لوگ حیات دنیا کے طالب تھے وہ اسے دیکھ کر کہنے لگے “کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے، یہ تو بڑا نصیبے والا ہے


English (Sahih International)

So he came out before his people in his adornment. Those who desired the worldly life said, “Oh, would that we had like what was given to Qarun. Indeed, he is one of great fortune


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 79 فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ فِیْ زِیْنَتِہٖ ط ”اپنی قوم پر رعب جمانے کے لیے وہ اپنے َ خدم و حشم کے ساتھ اپنی دولت اور آرائش و زیبائش کا اظہار کرتے ہوئے نکلا۔ چناچہ اس کی شان و شوکت کو دیکھ کر :قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ قَارُوْنُلا ”وہ لوگ جو دنیوی زندگی ہی کے طالب تھے ‘ اسے للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ کر اندر ہی اندر اپنی محرومیوں پر پچھتاتے اور اس کی خوش نصیبی کی داد دیتے رہے کہ :اِنَّہٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ ”دنیا پرست اور ظاہر بین لوگوں کی نظر میں تو کسی شخص کی کامیابی اور خوش بختی کا معیار یہی ہے کہ اس کے پاس کس قدردولت ہے۔ یہ دولت اس نے کہاں سے حاصل کی ہے اور کیسے حاصل کی ہے اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہوتا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 79 and 80.

جس آدمی کے پاس دولت ہو اس کے گرد لازمی طورپر دنیا کی رونق جمع ہوجاتی ہے۔ اس کو دیکھ کر بہت سے نادان لوگ اس کے اوپر رشک کرنے لگتے ہیں۔ مگر جن لوگوں کو حقیقت کا علم حاصل ہوجائے ان کو یہ جاننے میں دیر نہیں لگتی کہ یہ محض چند دن کی رونق ہے اور جو چیز چند روزہ ہو اس کی کوئی قیمت نہیں۔

علمِ حقیقت اس دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے۔ مگر علمِ حقیقت کا مالک بننے کےلیے صبر کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ یعنی خارجی حالات کادباؤ قبول نہ کرتے ہوئے اپنا ذہن بنانا۔ظاہری چیزوں سے غیر متاثر رہ کر سوچنا۔ وقتی کشش کی چیز کو نظر انداز کرکے رائے قائم کرنا۔ یہ بلاشبہ صبر کی مشکل ترین قسم ہے، مگر اسی مشکل ترین امتحان میں پورا اترنے کے بعد آدمی کو وہ چیز ملتی ہے جس کو علم اور حکمت کہا جاتا ہے۔


Connections

  • Previous: 28_78
  • Next: 28_80
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes