Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
قَالَ إِنَّمَآ أُوتِيتُهُۥ عَلَىٰ عِلۡمٍ عِندِيٓۚ أَوَلَمۡ يَعۡلَمۡ أَنَّ ٱللَّهَ قَدۡ أَهۡلَكَ مِن قَبۡلِهِۦ مِنَ ٱلۡقُرُونِ مَنۡ هُوَ أَشَدُّ مِنۡهُ قُوَّةٗ وَأَكۡثَرُ جَمۡعٗاۚ وَلَا يُسۡـَٔلُ عَن ذُنُوبِهِمُ ٱلۡمُجۡرِمُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
تو اُس نے کہا “یہ سب کچھ تو مجھے اُس علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے” کیا اس کو علم نہ تھا کہ اللہ اس سے پہلے بہت سے ایسے لوگوں کو ہلاک کر چکا ہے جو اس سے زیادہ قوت اور جمعیت رکھتے تھے؟ مجرموں سے تو ان کے گناہ نہیں پوچھے جاتے
English (Sahih International)
He said, “I was only given it because of knowledge I have.” Did he not know that Allah had destroyed before him of generations those who were greater than him in power and greater in accumulation [of wealth]? But the criminals, about their sins, will not be asked
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 78 قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ ط ”یعنی تم کیا سمجھتے ہو کہ یہ دولت مجھے اللہ نے دی ہے ؟ یہ تو میں نے اپنی ذہانت ‘ سمجھ بوجھ ‘ محنت اور اعلیٰ منصوبہ بندی کی وجہ سے کمائی ہے۔ یہ خالص مادہ پرستانہ سوچ ہے اور ہر زر پرست شخص جو عملی طور پر اللہ کے فضل کا منکر ہے ہمیشہ اسی سوچ کا حامل ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میرے کاروبار کی سب کامیابیاں میرے علم اور تجربے کی بنیاد پر ہیں۔ میں نے مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کا بروقت اندازہ لگا کر جو فلاں فیصلہ کیا تھا اور فلاں سودا کیا تھا اس کی وجہ سے مجھے یہ اتنی بڑی کامیابی ملی ہے۔وَلَا یُسْءَلُ عَنْ ذُنُوْبِہِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ”م اللہ تعالیٰ ان کے حساب کتاب کی جزئیات تک سے باخبر ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے اعمال نامہ کی ایک ایک تفصیل اس کے سامنے ہے۔ اسے کسی تفتیش یا تحقیق کی ضرورت نہیں۔ یہی بات سورة الرحمن میں یوں بیان ہوئی ہے : فَیَوْمَءِذٍ لَّا یُسْءَلُ عَنْ ذَنْبِہٖٓ اِنْسٌ وَّلَا جَآنٌّ ”پھر اس دن نہیں پوچھا جائے گا کسی انسان یا جن سے اس کے گناہ کے بارے میں“۔ اس لیے کہ اللہ کے حضور پیشی کے وقت ہر فرد کی مکمل کار گزاری اس کی پیشانی پر نقش ہوگی۔ ازروئے الفاظ قرآنی : یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰہُمْ فَیُؤْخَذُ بالنَّوَاصِیْ وَالْاَقْدَامِ الرحمن ”مجرم اپنے چہروں سے ہی پہچان لیے جائیں گے ‘ تو انہیں دبوچ لیا جائے گا سر کے بالوں اور پیروں سے“۔ اس طریقے سے ان میں سے ایک ایک کو پکڑ کر جہنم کی طرف اچھال دیا جائے گا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
قارون کا جو کرداریہاں بیان ہوا ہے یہی ہمیشہ صاحبانِ دولت کاکردار رہا ہے۔ دولت مند آدمی سمجھتا ہے کہ اس کو جو کچھ ملا ہے وہ اس کے علم کی بدولت ملا ہے۔ مگر کسی دولت مند کا علم اس کو یہ نہیں بتاتا کہ تم سے پہلے بھی بہت سے لوگوں کو دولت ملی مگر ان کی دولت انھیں موت یا ہلاکت سے نہ بچا سکی۔ پھر تم کو وہ کس طرح بچانے والی ثابت ہوگی۔