Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَأَنكِحُواْ ٱلۡأَيَٰمَىٰ مِنكُمۡ وَٱلصَّـٰلِحِينَ مِنۡ عِبَادِكُمۡ وَإِمَآئِكُمۡۚ إِن يَكُونُواْ فُقَرَآءَ يُغۡنِهِمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں، اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں، ان کے نکاح کر دو اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے اُن کو غنی کر دے گا، اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے
English (Sahih International)
And marry the unmarried among you and the righteous among your male slaves and female slaves. If they should be poor, Allah will enrich them from His bounty, and Allah is all-Encompassing and Knowing
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 32 وَاَنْکِحُوا الْاَیَامٰی مِنْکُمْ ”یہ بہت اہم حکم ہے۔ خصوصی طور پر ہمارے اس معاشرے کے لیے اس میں بہت بڑی راہنمائی ہے جہاں ہندوانہ رسم و رواج کے اثرات کے باعث بیوہ کا نکاح کرنا معیوب اور ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے اور اس کے ساتھ خوشی سے کوئی شخص بھی نکاح نہیں کرنا چاہتا۔وَالصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَاِمَآءِکُمْ ط ”تمہارے غلاموں اور باندیوں میں سے جو سمجھ دار ہوں اور ان کے کردار کے بارے میں بھی تمہیں اعتماد ہو ان کے آپس میں نکاح کردیا کرو۔ غلاموں اور کنیزوں کے نکاح ان کے آقاؤں کی اجازت سے ہوں گے اور جب کسی کنیز کا نکاح ہوجائے گا تو پھر اس کے آقا کو اس کے ساتھ تمتعّ کی اجازت نہیں ہوگی۔اِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِہِمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ط ”چنانچہ یہ اندیشہ نہیں ہونا چاہیے کہ ان میں مہر وغیرہ ادا کرنے کی استطاعت نہیں تو نکاح کیونکر کریں !وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ”وہ بہت کشادگی والا ہے اور اپنے بندوں کے احوال واقعی سے بخوبی واقف بھی ہے۔ اس سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ کوئی انسان اپنی تنگ دستی کو اپنے نکاح کے راستے کی رکاوٹ نہ سمجھے۔ اسے امید رکھنی چاہیے کہ اس کی بیوی اپنی قسمت اور اپنا رزق اپنے ساتھ لے کر آئے گی اور یہ کہ نکاح کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے فضل خاص سے اس کے لیے رزق کا کوئی نیا دروازہ کھول دے گا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 32 to 34.
اسلام مرد اور عورت کے ليے شادی شدہ زندگی پسند کرتا ہے۔ کسی بھی عذر کی بنا پر نکاح سے رکنا اسلام میں درست نہیں۔ کچھ لوگ کسی ذاتی سبب سے غیر شادی شدہ رہ جائیں تو اس وقت اسلام پورے معاشرہ میں یہ روح دیکھنا چاہتا ہے کہ تمام لوگ اس کو ایک مشترک مسئلہ سمجھیں اور اس وقت تک مطمئن نہ ہوں جب تک وہ اس مسئلہ کو شرعی طریقوں سے حل نہ کرلیں۔
کتاب یا مکاتبت کے لفظی معنی ہیں لکھنا۔ اس سے مراد وہ تحریر ہے جس میں کوئی لونڈی یا غلام اپنے آقا سے یہ عہد کرے کہ میں اتنی مدت میں اتنا مال کما کر تجھے دے دوں گا اور اس کے بعد سے میں آزاد ہوں گا۔
اسلام جس زمانہ میں آیا اس وقت عرب میں اور ساری دنیا میں غلام بنانے کا رواج تھا۔ اسلام نے نہایت منظم طورپر اس کو ختم کرناشروع کیا۔ اسی میں سے ایک طریقہ وہ تھا جس کو مکاتبت کہاجاتا ہے۔ تاہم اسلام نے فک رقبہ (گردنیں چھڑانے) کی یہ مہم اپنے عام اصول کے مطابق تدریج کے تحت چلائی۔ مختلف طریقوں سے غلاموں اور لونڈیوں کو رہا کیا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ خلافت راشدہ کے آخری دور تک اس ادارہ کا تقریباً خاتمہ ہوگیا۔
قدیم زمانہ میں بعض لوگ اپنی لونڈیوں سے کسب کراتے تھے۔ مدینہ کے منافق عبد اللہ بن ابی کے پاس کئی لونڈیاں تھیں جن سے بدکاری کراکر وہ رقم حاصل کرتا تھا۔ ان میں سے ایک لونڈی نے اسلام قبول کرلیا اور کسب سے باز آنا چاہا تو عبد اللہ بن ابی نے اس پر جبر کرنا شروع کیا۔ بالآخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے یہ لونڈی عبد اللہ بن ابی کے قبضہ سے رہا کرائی گئی۔