Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَقُل لِّلۡمُؤۡمِنَٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ أَبۡصَٰرِهِنَّ وَيَحۡفَظۡنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنۡهَاۖ وَلۡيَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّۖ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوۡ ءَابَآئِهِنَّ أَوۡ ءَابَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوۡ أَبۡنَآئِهِنَّ أَوۡ أَبۡنَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوۡ إِخۡوَٰنِهِنَّ أَوۡ بَنِيٓ إِخۡوَٰنِهِنَّ أَوۡ بَنِيٓ أَخَوَٰتِهِنَّ أَوۡ نِسَآئِهِنَّ أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُنَّ أَوِ ٱلتَّـٰبِعِينَ غَيۡرِ أُوْلِي ٱلۡإِرۡبَةِ مِنَ ٱلرِّجَالِ أَوِ ٱلطِّفۡلِ ٱلَّذِينَ لَمۡ يَظۡهَرُواْ عَلَىٰ عَوۡرَٰتِ ٱلنِّسَآءِۖ وَلَا يَضۡرِبۡنَ بِأَرۡجُلِهِنَّ لِيُعۡلَمَ مَا يُخۡفِينَ مِن زِينَتِهِنَّۚ وَتُوبُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور اے نبیؐ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اُس کے جو خود ظاہر ہو جائے، اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں وہ اپنا بناؤ سنگھار نہ ظاہر کریں مگر اِن لوگوں کے سامنے: شوہر، باپ، شوہروں کے باپ، اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے، اپنے میل جول کی عورتیں، ا پنے مملوک، وہ زیردست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں، اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں وہ ا پنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہو اس کا لوگوں کو علم ہو جائے اے مومنو، تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے
English (Sahih International)
And tell the believing women to reduce [some] of their vision and guard their private parts and not expose their adornment except that which [necessarily] appears thereof and to wrap [a portion of] their headcovers over their chests and not expose their adornment except to their husbands, their fathers, their husbands’ fathers, their sons, their husbands’ sons, their brothers, their brothers’ sons, their sisters’ sons, their women, that which their right hands possess, or those male attendants having no physical desire, or children who are not yet aware of the private aspects of women. And let them not stamp their feet to make known what they conceal of their adornment. And turn to Allah in repentance, all of you, O believers, that you might succeed
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوْبِہِنَّص ”اپنے معمول کے لباس کے اوپر وہ اپنی اوڑھنیوں کو اس طرح لپیٹے رکھیں کہ ان کے گریبان اور سینے ڈھکے رہیں۔ خُمُر جمع ہے ‘ اس کا واحد خمار ہے اور اس کے معنی اوڑھنی دوپٹہ کے ہیں۔ سورة الاحزاب ‘ آیت 59 میں خواتین کے لباس کے حوالے سے جلابِیب کا لفظ آیا ہے جس کی واحد جلباب ہے۔ ہمارے ہاں ”جلباب“ کا مترادف لفظ چادر ہے۔ چناچہ یوں سمجھئے کہ دوپٹہ اور چادر دونوں ہی عورت کے لباس کا لازمی حصہ ہیں۔ عرب تمدن میں اسلام سے پہلے اگرچہ عورت کے لیے چہرے کا پردہ رائج نہیں تھا مگر چادر اور اوڑھنی اس دور میں بھی عورت کے لباس کا لازمی حصہ تھیں۔ اوڑھنی وہ ہر وقت اوڑھے رہتی تھی گھر کے اندر رہتے ہوئے بھی جبکہ گھر سے باہر نکلنا ہوتا تو چادر اوڑھ کر نکلتی تھی۔ البتہ وہ اوڑھنی اس انداز سے لیتی تھیں کہ گریبان کا ایک حصہ کھلا رہتا تھا جس سے گلا اور سینہ صاف نمایاں ہوتا تھا۔ اس آیت میں حکم دیا گیا کہ اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیوں کے ُ بکلّ مار لیا کریں تاکہ ان کے گریبان اور سینے اچھی طرح ڈھکے رہیں۔ زمانہ قبل از اسلام میں عربوں کے ہاں چادر نہ صرف عورتوں بلکہ مردوں کے لباس کا بھی لازمی حصہ تھی۔ چادر مرد کی عزت کی علامت سمجھی جاتی اور چادر کے معیار سے کسی شخص کے مقام و مرتبے کا تعین بھی ہوتا تھا۔ معمولی چادر والے شخص کو ایک عام آدمی جبکہ قیمتی دوشالہ اوڑھنے والے کو معزز اور اہم آدمی سمجھا جاتا تھا۔ اسی طرح کسی کے کاندھے سے اس کی چادر کا کھینچنا یا گھسیٹنا اس کو بےعزت و بےتوقیر کرنے کی علامت تھی۔ چادر کا یہی تصور اس حدیث قدسی میں بھی ملتا ہے جس میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے : اَلْکِبْرِیَاءُ رِدَاءِیْ 1 ”تکبر میری چادر ہے“۔ یعنی جو شخص تکبر کرتا ہے وہ گویا میری چادر گھسیٹ رہا ہے۔وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ ”آگے اس حکم سے استثناء کے طور پر مردوں کی ایک طویل فہرست دی جا رہی ہے جن کے سامنے عورت بغیر حجاب ‘ کھلے چہرے کے ساتھ آسکتی ہے۔ مقام غور ہے کہ اگر عورت کے چہرے کا پردہ لازمی نہیں ہے تو محرم مردوں کی یہ طویل فہرست بیان فرمانا معاذ اللہ ! کیا ایک بےمقصد مشق excercise in futility ہے ؟ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی شریعت میں عورت کے چہرے کا پردہ لازمی ہے اور اس حکم سے جن مردوں کو استثناء حاصل ہے وہ یہ ہیں :اِلَّا لِبُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ اٰبَآءِہِنَّ ”باپ کے مفہوم میں چچا ‘ ماموں ‘ دادا اور نانا بھی شامل ہیں۔اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ اَبْنَآءِہِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِہِنَّ ”یعنی شوہر کا وہ بیٹا جو اس کی دوسری بیوی سے ہے وہ بھی نا محرم نہیں ہے۔اَوْ نِسَآءِہِنَّ ”یعنی عام عورتیں بھی نا محرم تصور کی جائیں گی۔ البتہ اپنے میل جول اور جان پہچان کی عورتیں اس استثنائی فہرست میں شامل ہیں۔اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُنَّ ”یعنی غلام اور لونڈیاں۔ لیکن اکثر اہل سنت علماء کے نزدیک یہ حکم صرف لونڈیوں کے لیے ہے اور غلام اس میں شامل نہیں ہیں۔اَوِ التَّابِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ ”یعنی ایسے زیردست لوگ جو صرف خدمت گار ہوں اور اپنی عمر یا زیردستی و محکومی کی بنا پر خواتین خانہ کے متعلق کوئی بری نیت دل میں نہ لاسکیں۔ اس شرط پر پورا اترنے والے مرد بھی اس استثنائی فہرست میں شمار ہوں گے۔ مثلاً ایسے خاندانی ملازمین جو کئی پشتوں سے گھریلو خدمت پر مامور ہوں۔ پہلے باپ ملازم تھا ‘ پھر اس کا بیٹا بھی اسی گھر میں پلا بڑھا اور بچپن سے ہی گھر کی خواتین کی خدمت میں رہا۔ ایسے لڑکے یا مرد سے یہ اندیشہ نہیں ہوتا کہ وہ گھر کی خواتین کے بارے میں برا خیال ذہن میں لائے۔اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْہَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآءِص ”یعنی وہ نا بالغ لڑکے جن میں عورتوں کے لیے فطری رغبت ابھی پیدا نہیں ہوئی۔ یہ ان محرم لوگوں کی فہرست ہے جن کے سامنے عورت بغیر حجاب کے آسکتی ہے۔ اس ضمن میں دو باتیں مزید ذہن نشین کر لیجیے : پہلی یہ کہ اس آیت میں اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا سوائے اس کے جو اس میں سے از خود ظاہر ہوجائے کے الفاظ سے بعض لوگ چہرہ مراد لیتے ہیں ‘ جو بالبداہت بالکل غلط ہے۔ سورة الاحزاب میں وارد احکام حجاب اور احادیث نبویہ کی رو سے عورت کے لیے چہرے کا پردہ لازمی ہے۔ عہد نبوی ﷺ میں حکم حجاب آجانے کے بعد عورتیں کھلے منہ نہیں پھرتی تھیں۔ میرے نزدیک ان قرآنی الفاظ سے مراد نسوانی جسم کی ساخت یا اس کی ایسی کوئی کیفیت ہے جسے عورت چھپانا چاہے بھی تو نہیں چھپا سکتی۔ مثلاً کسی خاتون نے برقعہ پہن رکھا ہے ‘ چہرے کے پردے کا اہتمام بھی کیا ہے مگر اس کے لمبے قد کی کشش یا متناسب جسم کی خوبصورتی اس سب کچھ کے باوجود بھی اپنی جگہ موجود ہے ‘ جو بہرحال چھپائے نہیں چھپ سکتی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ مذکورہ محرموں کے سامنے عورت کو صرف چہرے کے پردے کے بغیر آنے کی اجازت ہے۔ ستر کے کسی حصے کو ان کے سامنے بھی کھولنے کی اسے اجازت نہیں اس میں صرف اس کے خاوند کو استثناء حاصل ہے۔ واضح رہے کہ عورت کے چہرے ‘ پہنچوں سے نیچے ہاتھوں اور ٹخنوں سے نیچے پیروں کے سوا اس کا تمام جسم اس کے ستر میں شامل ہے۔ چناچہ کسی عورت کو کھلے بالوں کے ساتھ یا مذکورہ تین اعضاء کے علاوہ جسم کے کسی حصے کو کھلا چھوڑ کر اپنے والد ‘ بھائی یا بیٹے کے سامنے بھی آنے کی اجازت نہیں۔وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِہِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِہِنَّ ط ”عورت کی چال ایسی نہ ہو جس کی وجہ سے چادر یا برقعے کے باوجود اس کے بناؤ سنگھار ‘ زیورات وغیرہ میں سے کسی قسم کی زینت کے اظہار کا امکان ہو۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
خواتین کے سلسلہ میں اسلام کے احکام دو پہلوؤں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک وہ جس کا عنوان ستر ہے اور دوسرے وہ جس کا عنوان حجاب ہے۔ ستر کا تعلق جسم کے پردہ سے ہے۔ یعنی عورت خواہ گھر کے اندر ہو یا گھر کے باہر، اس کو اپنے بدن کا کون سا حصہ، کس کے سامنے اور کن حالات میں کھلا رکھنا جائز ہے اور کب کھلا رکھنا جائز نہیں۔
حجاب کا تعلق باہر کے پردہ سے ہے، یعنی اس مسئلہ سے کہ شریعت نے عورت کوکن حالات میں گھر سے باہر نکلنے اور سفر کرنے کی اجازت دی ہے۔ ان آیات میں بنیادی طورپر ستر کا مسئلہ بیان ہوا ہے۔ حجاب کا مسئلہ آگے سورہ احزاب میں ہے۔
’’اے مومنو تم سب اللہ کی طرف رجوع کرو‘‘— یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ احکام شریعت کی تعمیل کے سلسلہ میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ دلوں کے اندر اس کی آمادگی ہو۔ صحابہ اور صحابیات اس معاملہ میں آخری معیاری درجہ پر تھے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ خدا کی قسم میں نے خداکی کتاب کی تصدیق اور اس کے احکام پر ایمان کے معاملہ میں انصار کی عورتوں سے بہتر کسی کو نہیں پایا۔ جب سورہ نور کی آیت (وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ) اتری تو ان کے مرد اپنے گھروں کی طرف لوٹے۔ انھوں نے اپنی عورتوں اور لڑکیوں اور بہنوں کو وہ حکم سنایا جو خدانے ان کے ليے اتارا تھا۔ پس انصار کی عورتوں میں سے ہر عورت فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔ کسی نے اپنی کمر پٹی کھول کر اور کسی نے اپنی چادر لے کر اس کا دوپٹہ بنایا اور اس کو اوڑھ لیا۔ اگلے دن صبح کی نماز انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پڑھی تو دوپٹہ کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا تھا گویا ان کے سروں پر کوّے ہوں (تفسیر ابن ابی حاتم، حدیث نمبر 14406)۔