Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 22:27 Prev 22:25


Arabic

وَإِذۡ بَوَّأۡنَا لِإِبۡرَٰهِيمَ مَكَانَ ٱلۡبَيۡتِ أَن لَّا تُشۡرِكۡ بِي شَيۡـٔٗا وَطَهِّرۡ بَيۡتِيَ لِلطَّآئِفِينَ وَٱلۡقَآئِمِينَ وَٱلرُّكَّعِ ٱلسُّجُودِ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

یاد کرو وہ وقت جب ہم نے ابراہیمؑ کے لیے اِس گھر (خانہ کعبہ) کی جگہ تجویز کی تھی (اِس ہدایت کے ساتھ) کہ “میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھو


English (Sahih International)

And [mention, O Muhammad], when We designated for Abraham the site of the House, [saying], “Do not associate anything with Me and purify My House for those who perform Tawaf and those who stand [in prayer] and those who bow and prostrate


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 26 وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰہِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتِ ”حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے نشاندہی کردی گئی کہ ٹھیک اس جگہ پر بیت اللہ کی تعمیر کی جائے۔ غالباً یہ وہی جگہ تھی جہاں حضرت آدم علیہ السلام نے بیت اللہ کی تعمیر کی تھی۔ بعد میں سیلاب کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام کی تعمیر شدہ دیواریں گرگئیں اور ان کے آثار بھی ناپید ہوگئے لیکن زمین کے اندر بنیادیں موجود تھیں۔اَنْ لَّا تُشْرِکْ بِیْ شَیْءًا وَّطَہِّرْ بَیْتِیَ للطَّآءِفِیْنَ وَالْقَآءِمِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ ”یہی مضمون سورة البقرۃ کی اس آیت میں بھی آچکا ہے : وَعَہِدْنَآ اِلآی اِبْرٰہٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَہِّرَا بَیْتِیَ للطَّآءِفِیْنَ وَالْعٰکِفِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ ”اور عہد لیا ہم نے ابراہیم اور اسماعیل علیہ السلام سے کہ پاک رکھیں میرے گھر کو طواف کرنے والوں ‘ اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے“۔ دونوں آیات کے الفاظ بھی ملتے جلتے ہیں ‘ صرف یہ فرق ہے کہ سورة البقرۃ میں لفظ ”العٰکِفِیْن“ آیا ہے اور آیت زیر نظر میں اس کی جگہ ”القَاءِمِیْن“ استعمال ہوا ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

حضرت ابراہیم کا زمانہ چارہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں ساری آباد نيا میں مشرکانہ مذہب چھایا ہوا تھا۔ حتی کہ شرک کے عمومی غلبہ کی وجہ سے تاریخ میں شرک کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب یہ نوبت آگئی کہ جو بچہ پیدا ہو وہ اپنے ماحول سے صرف شرک کا سبق لے۔

حضرت ابراہیم عراق میںپیدا ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم دیا کہ وہ عراق اور شام اور مصر جیسے آباد علاقوں کو چھوڑ کر حجاز کے غیر آباد علاقے میں چلے جائیں اور وہاں اپنی اولاد کو بسا دیں۔ غیر آباد علاقے میں بسانے کا مقصد یہ تھا کہ یہاں الگ تھلگ دنیا میں ایک ایسی نسل پیدا ہو جو شرک سے منقطع ہو کر پرورش پاسکے۔ حضرت ابراہیم نے اسی خدائی منصوبے کے تحت اپنی اولاد کو موجودہ مکہ میں لاکر بسا دیا جو اس وقت یکسر غیر آباد تھی۔ اسی کے ساتھ حضرت ابراہیم نے ایک مسجد (خانہ کعبہ) کی تعمیر کی تاکہ وہ اس نئی نسل کے ليے اور بالآخر ساری دنیا کے لیے ایک خدا کی عبادت کا مرکز بن سکے۔


Connections

  • Previous: 22_25
  • Next: 22_27
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes