Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ ٱلَّذِي جَعَلۡنَٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءً ٱلۡعَٰكِفُ فِيهِ وَٱلۡبَادِۚ وَمَن يُرِدۡ فِيهِ بِإِلۡحَادِۭ بِظُلۡمٖ نُّذِقۡهُ مِنۡ عَذَابٍ أَلِيمٖ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
جن لوگوں نے کفر کیا اور جو (آج) اللہ کے راستے سے روک رہے ہیں اور اُس مسجدِ حرام کی زیارت میں مانع ہیں جسے ہم نے سب لوگوں کے لیے بنایا ہے، جس میں مقامی باشندوں اور باہر سے آنے والوں کے حقوق برابر ہیں (اُن کی روش یقیناً سزا کی مستحق ہے) اِس (مسجدِ حرام) میں جو بھی راستی سے ہٹ کر ظلم کا طریقہ اختیار کرے گا اسے ہم درد ناک عذاب کا مزا چکھائیں گے
English (Sahih International)
Indeed, those who have disbelieved and avert [people] from the way of Allah and [from] al-Masjid al-Haram, which We made for the people - equal are the resident therein and one from outside; and [also] whoever intends [a deed] therein of deviation [in religion] or wrongdoing - We will make him taste of a painful punishment
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
یہ دو رکوع مناسک حج کے بارے میں ہیں۔ سورة البقرۃ کے چوبیسویں اور پچیسویں رکوع میں بھی مناسک حج کا تذکرہ ہے مگر وہاں پر قربانی کا ذکر نہیں ہوا۔ صرف قبل از وقت سر منڈوانے کی صورت میں کفارے کے طور پر جانور ذبح کرنے دم جنایت اور حج وعمرہ کو جمع کرنے ِ قران یا تمتع ّ کی صورت میں دم شکر کا تذکرہ ہے۔ لیکن یہاں قربانی اور طواف کا خاص طور پر ذکر ہے۔آیت 25 اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ”کفار مکہ کی مخالفانہ سر گرمیوں کی طرف اشارہ ہے جن کے باعث مسلمان نہ صرف جوار بیت اللہ کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے بلکہ ایک عرصے تک حج وعمرہ کی سعادت حاصل کرنے سے محروم بھی رہے۔الَّذِیْ جَعَلْنٰہُ للنَّاسِ سَوَآءَ نِ الْعَاکِفُ فِیْہِ وَالْبَادِ ط ”ان دونوں اقسام کے لوگوں کے لیے ”مقیم“ اور ”آفاقی“ کی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔ چناچہ مقیم ہو یا آفاقی حرم کے اندر سب کے حقوق برابر ہیں ‘ کسی کو کسی پر ترجیح یا برتری نہیں دی جاسکتی۔ اب بھی وہاں پر یہ مساوات برقرار ہے۔ باہر سے آنے والا کوئی شخص پہلی صف میں بیٹھا ہو تو اسے کوئی وہاں سے نہیں اٹھا سکتا۔ البتہ کوئی ناجائز طریقے سے اپنے لیے کوئی رعایت حاصل کرلے یا حکومتی سطح پر کسی کو وی آئی پی قرار دے کر دوسروں کے حقوق متأ ثر کیے جائیں تو یہ الگ بات ہے۔وَمَنْ یُّرِدْ فِیْہِ بِاِلْحَادٍم بِظُلْمٍ ”بیت اللہ کے اندر جو کوئی اپنی شرارت نفس کی بنا پر یا ظلم و ناانصافی کی روش پر چلتے ہوئے کسی بےدینی کے ارتکاب ‘ کوئی کجی پیدا کرنے یا لوگوں کو سیدھے راستے سے ہٹانے کی کوشش کرے گا :
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
حق کا انکار کرنے کی ایک مثال وہ ہے جو قدیم مکہ میں پیش آئی۔ مکہ کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انتہائی پر امن تبلیغ کو بھی برداشت نہیں کیا۔ انھوںنے آپ کے اوپر پابندیاں لگائیں۔ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو یک طرفہ طورپر ظلم کا نشانہ بنایا حتی کہ انھوںنے یہ ظلم بھی کیا کہ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکا۔
مکہ کے لوگوں کی یہ روش انکار پر سرکشی کا اضافہ تھی۔ جو لوگ ایسے ظالمانہ رویہ کا ثبوت دیں ان کے ليے خدا کے یہاں سخت ترین سزا ہے، خواہ وہ ماضی کے ظالم لوگ ہوں یا حال کے ظالم لوگ۔ اور خواہ ان کی سرکشی کا تعلق حضرت ابراہیم کی تعمیر کردہ مسجد سے ہو یا اس وسیع تر ’’مسجد‘‘ سے جس کو خدا نے زمین کی صورت میں اپنے تمام بندوں کے ليے بنایا ہے۔