Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
۞هَٰذَانِ خَصۡمَانِ ٱخۡتَصَمُواْ فِي رَبِّهِمۡۖ فَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ قُطِّعَتۡ لَهُمۡ ثِيَابٞ مِّن نَّارٖ يُصَبُّ مِن فَوۡقِ رُءُوسِهِمُ ٱلۡحَمِيمُ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
یہ دو فریق ہیں جن کے درمیان اپنے رب کے معاملے کا جھگڑا ہے اِن میں سے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے اُن کے لیے آگ کے لباس کاٹے جا چکے ہیں، اُن کے سروں پر کھَولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا
English (Sahih International)
These are two adversaries who have disputed over their Lord. But those who disbelieved will have cut out for them garments of fire. Poured upon their heads will be scalding water
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 19 to 21.
آیت 19 ہٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّہِمْز ”یہ سورت چونکہ رسول اللہ ﷺ کی مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی تھی ‘ اس لیے ان گروہوں سے مکہ کے دو گروہ مراد ہیں۔ یعنی ایک مؤمنین کا گروہ جو حضور ﷺ پر ایمان لا چکا تھا اور دوسرا وہ گروہ جو اب تک آپ ﷺ کی مخالفت پر اڑا ہوا تھا۔ قبل ازیں آیت 11 کے ضمن میں وضاحت کی جا چکی ہے کہ سورة الحج مکی سورت ہے ‘ البتہ اس کی کچھ آیات ایسی ہیں جو سفر ہجرت کے دوران نازل ہوئیں تھیں۔ فَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَہُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ ط ”کپڑے کو قطع کرنے کا ذکر کر کے لباس تیار کرنے کے عمل کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔ یعنی جس طرح درزی پہلے مطلوبہ ناپ کے مطابق کپڑے کو کاٹتا ہے اور پھر لباس تیار کرتا ہے اسی طرح منکرین حق کے لیے جہنم کی آگ سے لباس تیار کیے جائیں گے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 19 to 22.
بڑی تقسیم میں تمام گروہ صرف دو ہیں۔ ایک اہل حق، اور دوسرے ان کا انکار کرنے والے۔ جو لوگ موجودہ دنیا میں اہل حق سے جھگڑتے ہیں وہ بطور خود یہ سمجھتے ہیں کہ وہ دلائل کا پہاڑ اپنے ساتھ ليے ہوئے ہیں۔ مگر یہ صرف ان کی غیر سنجیدگی ہے جو ان کی بے معنی بحثوں کو انھیں دلیل کے روپ میں دکھاتی ہے۔ وہ چوں کہ حق کا اعتراف کرنا نہیں چاہتے، اس ليے وہ اس کے خلاف جھوٹے جھگڑے کھڑے کرتے ہیں۔ ایسے لوگ آخرت میں اپنے عدم اعتراف کی ایسی سخت سزا پائیں گے جس سے وہ کبھی نکل نہ سکیں۔