Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يَسۡجُدُۤ لَهُۥۤ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ وَٱلشَّمۡسُ وَٱلۡقَمَرُ وَٱلنُّجُومُ وَٱلۡجِبَالُ وَٱلشَّجَرُ وَٱلدَّوَآبُّ وَكَثِيرٞ مِّنَ ٱلنَّاسِۖ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيۡهِ ٱلۡعَذَابُۗ وَمَن يُهِنِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِن مُّكۡرِمٍۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ۩
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کے آگے سربسجود ہیں وہ سب جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان اور بہت سے وہ لوگ بھی جو عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں؟ اور جسے اللہ ذلیل و خوار کر دے اُسے پھر کوئی عزّت دینے والا نہیں ہے، اللہ کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے
English (Sahih International)
Do you not see that to Allah prostrates whoever is in the heavens and whoever is on the earth and the sun, the moon, the stars, the mountains, the trees, the moving creatures and many of the people? But upon many the punishment has been justified. And he whom Allah humiliates - for him there is no bestower of honor. Indeed, Allah does what He wills
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَآبُّ وَکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ ط ”انسانوں کے علاوہ باقی تمام مخلوقات قانون خداوندی اور تکوینی نظام کے اصول و ضوابط کی پابند اور ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی میں مصر وف عمل ہیں ‘ البتہ اس سلسلے میں انسانوں کا معاملہ مختلف ہے۔ وہ سب کے سب ایک سے نہیں ہیں۔ انسانوں کو جو محدود آزادی ملی ہے اس سے فائدہ اٹھا کر کچھ لوگ اللہ سے بغاوت کردیتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کو چھوڑ کر دوسری چیزوں مثلاً سورج ‘ چاند اور درختوں تک کی پرستش شروع کردیتے ہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو ہدایت اور اپنی معرفت عطا فرماتا ہے وہ صرف اسی کے سامنے سربسجود ہوتے ہیں۔وَمَنْ یُّہِنِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ مُّکْرِمٍ ط ”اللہ نے تو انسان کو ”خلیفۃ اللّٰہ فی الارض“ کا مقام عطا کیا تھا ‘ اسے مسجود ملائک بنایا تھا۔ اب اگر کوئی انسان اپنے آپ کو خود ہی اس مقام رفیع سے نیچے گرا دے اور مخلوق کے سامنے اپنا سر جھکا کر خود کو ذلیل و رسوا کرلے تو اسے تکریم انسانی کیونکر حاصل ہوگی !اِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ ”اس آیت کے اندر مختلف چیزوں کے تذکرے میں اوپر سے نیچے کی طرف ایک خوبصورت ترتیب و تدریج پائی جاتی ہے۔ سورج سب سے بڑا ہے ‘ اس کے بعد چاند ‘ اس کے بعد ستارے جو بظاہر چاند سے چھوٹے نظر آتے ہیں۔ پھر نیچے زمین پر پہاڑ سب سے بلند ہیں ‘ پھر درخت ‘ پھر چوپائے اور آخر پر انسان۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
جس طرح انسان کے ليے خدا کا ایک قانون ہے اسی طرح بقیہ کائنات کے ليے بھی خدا کا ایک قانون ہے۔ بقیہ کائنات خدا کے قانون پر بلا اختلاف قائم ہے۔ وہ نہایت اتفاق اور ہم آہنگی کے ساتھ خدا کے مقرر کردہ قانون کی پیروی کررہی ہے۔ یہ صرف انسان ہے جو اختلافات پیدا کرتا ہے وہ خود ساختہ تشریح نکال کرنئے نئے راستوں پر چلنے لگتا ہے۔
خدا کی نظر میں وہ لوگ بہت بڑے مجرم ہیں جو خدا کے دین میں اختلافات پیدا کرتے ہیں۔ وہ بے اختلاف کائنات میں اختلاف کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ جس دنیا میں چاروں طرف نہایت وسیع پیمانے پر ’’ایک دین‘‘ کا سبق دیا جارہا ہے وہاں وہ ’’کئی دین‘‘ وضع کرنے میں مشغول ہیں۔
خدا کی کائنات خدا کی مرضی کا عملی اعلان ہے۔جو لوگ خدا کے قائم کردہ اس عملی نمونہ کے خلاف چلتے ہیں وہ آج ہی اپنے آپ کو مستحقِ عذاب ثابت کررہے ہیں۔ قیامت اس نتیجہ کا صرف لفظی اعلان کرے گی جس کا عملی اعلان اسی آج کی دنیا میں ہر آن ہورہا ہے۔