Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 22:13 Prev 22:11


Arabic

يَدۡعُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُۥ وَمَا لَا يَنفَعُهُۥۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلضَّلَٰلُ ٱلۡبَعِيدُ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

پھر وہ اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پکارتا ہے جو نہ اُس کو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ فائدہ یہ ہے گمراہی کی انتہا


English (Sahih International)

He invokes instead of Allah that which neither harms him nor benefits him. That is what is the extreme error


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

The commentary on this ayah is given with ayah 22:11.


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 12 to 14.

خدا کو چھوڑنا ہمیشہ غیرخدا پر بھروسہ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جب بھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی خدا کے سچے راستہ سے ہٹتا ہے یا اس کو نظر انداز کرتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ خدا کے سوا کسی اور چیز پر بھروسہ کيے ہوئے ہوتاہے۔ یہ غیر خدا کبھی کوئی بت ہوتاہے اور کبھی بت کے سوا کوئی دوسری چیز۔

مگر اس دنیا میں ایک خدا کے سوا کسی کو کوئی طاقت حاصل نہیں۔ اس ليے آدمی جب خدا کے سوا دوسروں پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ طاقت ور کو چھوڑ کر ایسی موہوم چیز کا سہارا پکڑتا ہے جس کا بحیثیت طاقت کوئی وجودنہیں۔ اس سے زیادہ بھول کی بات اور کیا ہوسکتی ہے۔

مزید یہ کہ اپنے آپ کو خدا کے ساتھ وابستہ کرنا صرف ضرورت کا تقاضا نہیں ہے بلکہ وہ حقیقت کا تقاضا بھی ہے۔ وہ انسان کے اوپر خدا کا حق ہے۔ اس لیے جب آدمی خدا کو چھوڑ کر موہوم چیزوں کی طرف جاتا ہے تو اس کا نقصان فوراً اس کے لیے مقدر ہوجاتا ہے۔ اور جہاں تک اس کے نفع کا سوا ل ہے وہ تو کبھی ملنے والا نہیں۔

غیر خدا کو سہارا بنانے والے بظاہر اس کو اپنے سے اونچا سمجھتے ہیں۔ ورنہ وہ اس کو سہارا ہی نہ بنائیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ غیر خدا جس کو سہارا بنایا جائے اور وہ لوگ جو انھیں اپناسہارا بنائیں دونوں یکساں درجہ میں مجبور اور بے طاقت ہیں۔

ایسی دنیا میں جو لوگ اس کا ثبوت دیں کہ انھوں نے ماحول سے اوپر اٹھ کر سوچا۔ غیر خداؤں کے پرفریب ہجوم میں انھوں نے خداکو دریافت کیا۔ اورپھر صرف آخرت کی خاطر اپنی زندگی کو خدا کی پسند کے راستے پر ڈال دیا وہ اس دنیا کی سب سے قیمتی روحیں ہیں۔ خدا ان کی اس طرح قدر دانی کرے گا کہ ان کو جنت کی کامل دنیا میں بسائے گا۔ جہاں وہ ابدی طور پر عیش کرتے رہیں۔


Connections

  • Previous: 22_11
  • Next: 22_13
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes