Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
۞وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَآ إِبۡرَٰهِيمَ رُشۡدَهُۥ مِن قَبۡلُ وَكُنَّا بِهِۦ عَٰلِمِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اُس سے بھی پہلے ہم نے ابراہیمؑ کو اُس کی ہوش مندی بخشی تھی اور ہم اُس کو خوب جانتے تھے
English (Sahih International)
And We had certainly given Abraham his sound judgement before, and We were of him well-Knowing
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 51 وَلَقَدْ اٰتَیْنَآ اِبْرٰہِیْمَ رُشْدَہٗ مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا بِہٖ عٰلِمِیْنَ ”ان آیات میں بڑی عمدگی سے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی قوم کے درمیان ہونے والی کش مکش کی تفصیل بیان ہو رہی ہے :
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 51 to 54.
خدا کے یہاں فیض بقدرِ استعداد کا اصول ہے۔ حضرت ابراہیم نے مختلف امتحانات سے گزر کر جس استعداد کا ثبوت دیا تھا اس کو خدا نے جانا اور اس کے مطابق ان کو ہدایت اور معرفت عطا فرمائی۔ یہی معاملہ خدا کا اپنے ہر بندے کے ساتھ ہے۔
حضرت ابراہیم عراق کے قدیم شہر اُر میں پیدا ہوئے۔ اس وقت یہاں کی زندگی میں پوری طرح شرک چھایا ہوا تھا۔مشرکانہ ماحول میں پرورش پانے کہ باوجود وہ اس سے متاثر نہیں ہوئے۔ انھوں نے چیزوں کو خود اپنی عقل سے جانچا اور ماحول کے علی الرغم توحید کی صداقت کو پالیا۔ وہ ایسی دنیا میں تھے جہاں ہر قسم کی عزت اور ترقی شرک سے وابستہ ہو گئی تھی۔ مگر انھوں نے کسی چیز کی پروا نہیں کی۔ تمام مصلحتوں سے بے نیاز ہو کر قوم کی روش پر تنقید کی اور اس کے سامنے حق کا اعلان کرنے کے ليے کھڑے ہو گئے— یہی وہ صفات ہیں جو کسی شخص کو اس قابل بناتی ہیں کہ اس کو خدا کی ہدایت حاصل ہو۔