Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
بَلۡ مَتَّعۡنَا هَـٰٓؤُلَآءِ وَءَابَآءَهُمۡ حَتَّىٰ طَالَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡعُمُرُۗ أَفَلَا يَرَوۡنَ أَنَّا نَأۡتِي ٱلۡأَرۡضَ نَنقُصُهَا مِنۡ أَطۡرَافِهَآۚ أَفَهُمُ ٱلۡغَٰلِبُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اصل بات یہ ہے کہ اِن لوگوں کو اور اِن کے آباء و اجداد کو ہم زندگی کا سر و سامان دیے چلے گئے یہاں تک کہ اِن کو دن لگ گئے مگر کیا اِنہیں نظر نہیں آتا کہ ہم زمین کو مختلف سمتوں سے گھٹاتے چلے آ رہے ہیں؟ پھر کیا یہ غالب آ جائیں گے؟
English (Sahih International)
But, [on the contrary], We have provided good things for these [disbelievers] and their fathers until life was prolonged for them. Then do they not see that We set upon the land, reducing it from its borders? So it is they who will overcome
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 44 بَلْ مَتَّعْنَا ہٰٓؤُلَآءِ وَاٰبَآءَ ہُمْ حَتّٰی طَالَ عَلَیْہِمُ الْعُمُرُ ط ”ہم انہیں مسلسل دنیوی نعمتوں سے نوازتے رہے ‘ یہاں تک کہ وہ ان کے عادی ہوگئے ‘ انہیں اپنی ملکیت سمجھنے لگے اور ان پر خوب اترانے لگے۔اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُہَا مِنْ اَطْرَافِہَا ط ”کیا مشرکین مکہ کو یہ ٹھوس حقیقت نظر نہیں آرہی کہ اس سرزمین میں ان کا اثر و رسوخ روز بروز کم ہو رہا ہے۔ اسلام کا پیغام مسلسل پھیل رہا ہے۔ مکہ کے اندر سے بھی اس روشنی کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے اور باہر کے قبائل میں بھی دعوت اسلام کا تعارف رفتہ رفتہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ گویا مشرکین مکہ کے لیے زمین مسلسل سکڑتی چلی جا رہی ہے اور ہر آنے والے دن کے ساتھ اہل ایمان کی تعداد اور طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان سے ملتے جلتے الفاظ میں یہ مضمون اس سے پہلے سورة الرعد میں بھی آچکا ہے : اَوَلَمْ یَرَوْا اَ نَّا نَاْ تِی الْاَرْضَ نَنْقُصُہَا مِنْ اَطْرَافِہَاط واللّٰہُ یَحْکُمُ لاَ مُعَقِّبَ لِحُکْمِہٖط وَہُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ”کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم زمین کو گھٹاتے چلے آ رہے ہیں اس کے کناروں سے ؟ اور اللہ ہی فیصلہ کرنے والا ہے ‘ کوئی نہیں پیچھے ڈالنے والا اس کے حکم کو ‘ اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔“اَفَہُمُ الْغٰلِبُوْنَ ”یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی کیا ان کا خیال ہے کہ اس کش مکش میں وہی جیتیں گے :
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 44 to 46.
’’وحی کے ذریعے ڈرانا‘‘ گویا دلیل کے ذریعہ لوگوں کو متنبہ کرنا ہے۔ حق کا داعی ہمیشہ دلیل کی زبان میں اپنی بات کو پیش کرتا ہے۔ اور دلیل ہی کی زبان میں لوگوں کو اسے پہچاننا پڑتا ہے۔ جو لوگ دلیل کے سامنے اندھے بہرے بنے رہیں، ان کی آنکھ صرف اس وقت کھلتی ہے جب کہ خدا کی طاقت کھلے طورپر ظاہر ہوجائے۔ اس وقت ہر سرکش اور متکبر فوراً مان لے گا۔ مگر اس وقت کا ماننا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔