Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 21:43 Prev 21:41


Arabic

قُلۡ مَن يَكۡلَؤُكُم بِٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ مِنَ ٱلرَّحۡمَٰنِۚ بَلۡ هُمۡ عَن ذِكۡرِ رَبِّهِم مُّعۡرِضُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اے محمدؐ، اِن سے کہو، “کون ہے جو رات کو یا دن کو تمہیں رحمان سے بچا سکتا ہو؟” مگر یہ اپنے رب کی نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں


English (Sahih International)

Say, “Who can protect you at night or by day from the Most Merciful?” But they are, from the remembrance of their Lord, turning away


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 42 قُلْ مَنْ یَّکْلَؤُکُمْ بالَّیْلِ وَالنَّہَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ ط ”یعنی اللہ تعالیٰ ہی نے تمہارے لیے محافظ Body guards مقرر کر رکھے ہیں۔ یہ مضمون دو مرتبہ اس سے پہلے بھی آچکا ہے۔ سورة الانعام : 61 میں فرمایا گیا : وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃً ط کہ وہ فرشتوں کی صورت میں تمہارے لیے محافظ مقرر کرتا ہے۔ سورة الرعد : 11 میں ارشاد ہوا : لَہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ یَحْفَظُوْنَہٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ ط ”اس انسان کے لیے باری باری آنے والے پہرے دار ہیں ‘ وہ اس کے سامنے اور اس کے پیچھے سے اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں اللہ کے حکم سے“۔ مراد یہ ہے کہ جب تک اللہ کو منظور ہوتا ہے وہ موت سے یا مصائب و حادثات سے خود انسان کی حفاظت کرتا ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 42 and 43.

خداکی پکڑ کا مسئلہ کسی دور دراز مستقبل کا مسئلہ نہیں ہے۔ وہ اسی دن رات کے اندر چھپا ہوا ہے جس میں آدمی اپنے آپ کو مامون ومحفوظ سمجھتا ہے۔ مثلاً سورج اور زمین کا فاصلہ اگر نصف کے بقدر گھٹ جائے تو ہمارے دن اتنے گرم ہوجائیں کہ وہ ہم کو آگ کے شعلہ کی طرح جلادیں۔ اس کے برعکس، اگر زمین سے سورج کا فاصلہ دگنا بڑھ جائے تو ہماري راتیں اتنی ٹھنڈی ہوجائیں کہ ہم برف کی طرح جم کر رہ جائیں۔

زمین وآسمان کا یہ حد درجہ موافق نظام جس نے قائم کر رکھا ہے وہ اس قابل ہے کہ انسان اپنی تمام عقیدتیں اور وفاداریاں اس سے وابستہ کرے، نہ کہ وہ ان جھوٹے معبودوں کی پرستش کرنے لگے جو اس کو کچھ نہیں دے سکتے۔


Connections

  • Previous: 21_41
  • Next: 21_43
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes