Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 21:38 Prev 21:36


Arabic

خُلِقَ ٱلۡإِنسَٰنُ مِنۡ عَجَلٖۚ سَأُوْرِيكُمۡ ءَايَٰتِي فَلَا تَسۡتَعۡجِلُونِ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

انسان جلد باز مخلوق ہے ابھی میں تم کو اپنی نشانیاں دکھائے دیتا ہوں، جلدی نہ مچاؤ


English (Sahih International)

Man was created of haste. I will show you My signs, so do not impatiently urge Me


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 37 خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ ط ”یعنی انسان کی خلقت میں عجلت پسندی رکھی گئی ہے۔ عجلت پسندی انسان کی سرشت میں داخل ہے۔ اس حوالے سے یہ نکتہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ انسان کی ذات یا شخصیت کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ مادی ‘ جسمانی یا حیوانی ہے جس کی تخلیق زمین یعنی مٹی سے ہوئی ہے۔ اس مادی وجود میں بہت سی کمزوریاں اور کوتاہیاں رکھی گئی ہیں۔ سورة النساء کے یہ الفاظ اس حقیقت پر شاہد ہیں : وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا کہ بنیادی طور پر انسان کمزور اور ضعیف پیدا کیا گیا ہے۔ انسانی ذات کا دوسرا پہلو روحانی ہے۔ انسانی روح چونکہ نور سے پیدا کی گئی ہے اس لیے اس کا یہ پہلو بہت بلند اور ارفع ہے۔ اسی پہلو کے بارے میں سورة التین میں فرمایا گیا ہے : لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ”ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے“۔ گویا اصل انسان تو وہ روح ہی ہے جو انسانی تخلیق کے مرحلہ اوّل وضاحت کے لیے الانعام : 94 کی تشریح ملاحظہ ہو میں اَحْسَنِ تَقْوِیْم کی کیفیت میں پیدا کی گئی۔ اس ”نور“ کو پھر اس انسانی جسم کے اندر رکھا گیا جو مٹی سے بنا ہے۔ اور اسی وجہ سے اس میں بہت سی کمزوریاں پائی جاتی ہیں جن میں سے ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ وہ فطری اور جبلی طور پر عجلت پسند ہے۔سَاُورِیْکُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ ”کیا عجب کہ تمہارے عذاب کے بارے میں وعیدوں کے پورا ہونے کا وقت قریب ہی آ لگا ہو۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 37 to 41.

عرب کے لوگ آخرت کے منکر نہ تھے۔ وہ آخرت کی اس نوعیت کے منکر تھے جس کی خبر انھیں ان کی قوم کا ایک شخص ’’محمد بن عبد اللہ‘‘ دے رہا تھا۔ انھیں فخر تھا کہ وہ ایک ایسے دین پر ہیں جو ان کی کامیابی کی یقینی ضمانت ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس یقین کی تردید کی تو وہ بگڑ گئے۔ وہ اپنی بے خوف نفسیات کی بناپر یہ کہنے لگے کہ وہ عذاب ہمیں دکھاؤ جس کی تم ہم کو دھمکی دے رہے ہو۔

فرمایا کہ ان کی یہ جلد بازی صرف اس ليے ہے کہ ابھی امتحان کے دور میں ہونے کی وجہ سے وہ عذاب سے دور کھڑے ہوئے ہیں۔ جس دن یہ مہلت ختم ہوگی اور خدا کا عذاب انھیں گھیر لے گا، اس وقت ان کی سمجھ میں آجائے گا کہ رسول کی دعوت کے بارے میں سنجیدہ نہ ہو کر انھوں نے کتنی بڑی غلطی کی تھی۔


Connections

  • Previous: 21_36
  • Next: 21_38
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes