Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَإِذَا رَءَاكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَٰذَا ٱلَّذِي يَذۡكُرُ ءَالِهَتَكُمۡ وَهُم بِذِكۡرِ ٱلرَّحۡمَٰنِ هُمۡ كَٰفِرُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
یہ منکرین حق جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں کہتے ہیں “کیا یہ ہے وہ شخص جو تمہارے خداؤں کا ذکر کیا کرتا ہے؟” اور ان کا اپنا حال یہ ہے کہ رحمان کے ذکر سے منکر ہیں
English (Sahih International)
And when those who disbelieve see you, [O Muhammad], they take you not except in ridicule, [saying], “Is this the one who insults your gods?” And they are, at the mention of the Most Merciful, disbelievers
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 36 وَاِذَا رَاٰکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَکَ اِلَّا ہُزُوًا ط ”یہ مشرکین مختلف انداز میں آپ ﷺ پر استہزائیہ فقرے کستے ہیں ‘ آپ ﷺ کو دیکھتے ہیں تو ایک دوسرے سے مخاطب ہو کر اس طرح آپ ﷺ کا تمسخر اڑاتے ہیں :اَہٰذَا الَّذِیْ یَذْکُرُ اٰلِہَتَکُمْ ج ”یعنی کہتا ہے کہ ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ اور اس طرح ان کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرتا ہے !وَہُمْ بِذِکْرِ الرَّحْمٰنِ ہُمْ کٰفِرُوْنَ ”انہیں تو اپنے معبودوں کا ذکر اچھا لگتا ہے۔ لات و عزیٰ کا ذکر ہو تو یہ لوگ خوش ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ان کے دل بجھ جاتے ہیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
قریش کے معبود اکثر ان کی قوم کے اکابر تھے۔ ایک طرف اپنے ان اکابر کی خیالی عظمت ان کے ذہنوں میں بسی ہوئی تھی۔ دوسری طرف پیغمبر تھا جس کی تصویر اس وقت ایک عام انسان سے زیادہ نہ تھی۔ اس تقابل میں پیغمبر انھیں بالکل معمولی نظر آتا۔ وہ حقارت کے ساتھ کہتے کہ کیا یہی وہ شخص ہے جو ہمارے اکابر پر تنقید کرتاہے اور اکابر کے جس دین پر ہم قائم ہیں اس کو رد کرکے دوسرا دین پیش کررہا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو صرف ایک خدا کی طرف بلاتے تھے۔ مگر انھیں خدا سے کوئی دل چسپی نہیں تھی۔ ان کی تمام دل چسپیاں اپنے اکابر سے وابستہ تھیں۔ انھوں نے اپنے ان اکابر کو معبود کا درجہ دے رکھا تھا۔ آپ کی دعوت سے چوں کہ ان اکابر پر زد پڑتی تھی۔ اس ليے وہ آپ کے سخت مخالف ہوگئے۔ وہ بھول گئے کہ معبودوں کو رد کرکے آپ خدا کو پیش کررہے ہیں، نہ کہ خود اپنی ذات کو۔