Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
لَقَدۡ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكُمۡ كِتَٰبٗا فِيهِ ذِكۡرُكُمۡۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
لوگو، ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں تمہارا ہی ذکر ہے، کیا تم سمجھتے نہیں ہو؟
English (Sahih International)
We have certainly sent down to you a Book in which is your mention. Then will you not reason
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 10 لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ کِتٰبًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ”یہاں ”ذِکْرُکُمْ“ کے دو ترجمے ہوسکتے ہیں ‘ ایک تو یہ کہ اس میں تمہارے حصے کی نصیحت اور تعلیم ہے یعنی ذکرٌ لکم اور دوسرا یہ کہ ”اس میں تمہارا اپنا ذکر بھی موجود ہے“۔ اس دوسرے مفہوم کی وضاحت ایک حدیث سے ملتی ہے ‘ جس کے راوی حضرت علی رض ہیں۔ آپ رض فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : أَلَا اِنَّھَا سَتَکُوْنُ فِتْنَۃٌ ”آگاہ ہوجاؤ ! عنقریب ایک بہت بڑا فتنہ رونما ہوگا“ فَقُلْتُ : مَا الْمَخْرَجُ مِنْھَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ؟ ”تو میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ اس سے نکلنے کا راستہ کون سا ہوگا ؟“ یعنی اس فتنے سے بچنے کی سبیل کیا ہوگی ؟“ آپ ﷺ نے فرمایا : کِتَاب اللّٰہِ ، فِیْہِ نَبَأُ مَا کَانَ قَبْلَکُمْ وَخَبَرُ مَا بَعْدَکُمْ وَحُکْمُ مَا بَیْنَکُمْ 1 ”للہ کی کتاب ! اس میں تم سے پہلے لوگوں کی خبریں بھی ہیں ‘ تمہارے بعد آنے والوں کے احوال بھی ہیں اور تمہارے باہمی مسائل و اختلافات کا حل بھی ہے“۔ ان معانی میں یہاں ذِکْرُکُمْ سے مراد یہی ہے کہ تمہارے ہر دور کے تمام مسائل کا حل اس کتاب کے اندر موجود ہے۔ میں اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ آج بھی ہمیں ہر قسم کی صورت حال میں قرآن مجید سے راہنمائی مل سکتی ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 10 to 15.
خدا کی کتاب عام معنوں میں محض ایک کتاب نہیں وہ ایک یاد دہانی ہے۔ وہ اس بات کی چیتاونی ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کا آنا اتفاق سے نہیں ہے، وہ ایک خدائی منصوبہ ہے۔ اور وہ منصوبہ یہ ہے کہ انسان کو آزمائش کے لیے وقتی آزادی دے دی جائے۔ اس کے بعد آدمی جیسا عمل کرے اس کے مطابق اس کو بدلہ دیا جائے۔ اس حقیقت کا جزئی ظہور ظالم قوموں کی ہلاکت کی صورت میں بار بار ہوتا رہا ہے۔ اور اس کا کلی ظہور قیامت میں ہوگا۔ جب کہ تمام اگلے پچھلے انسان دوبارہ پیداکرکے جمع کيے جائیں گے۔
جب خدا کی پکڑ ظاہر ہوتی ہے تو وہ تمام مادی سازوسامان آدمی کو مصیبت معلوم ہونے لگتے ہیں جن کے بل پر اس سے پہلے وہ حق کی دعوت کو نظر اندازکردیتا تھا۔ مادی سامان جب تک ساتھ نہ چھوڑدیں وہ غفلت سے نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اور جب یہ سامان اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اس وقت اس کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ مگر اس وقت آنکھ کا کھلنا اس کے کام نہیں آتا۔ کیوں کہ اس وقت تمام چیزیں اپنی طاقت کھو چکی ہوتی ہیں۔ اس کے بعد صرف خدا کسی کے کام آتا ہے، نہ کہ جھوٹے معبود۔