Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 20:89 Prev 20:87


Arabic

فَأَخۡرَجَ لَهُمۡ عِجۡلٗا جَسَدٗا لَّهُۥ خُوَارٞ فَقَالُواْ هَٰذَآ إِلَٰهُكُمۡ وَإِلَٰهُ مُوسَىٰ فَنَسِيَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور ان کے لیے ایک بچھڑے کی مورت بنا کر نکال لایا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی لوگ پکار اٹھے “یہی ہے تمہارا خدا اور موسیٰؑ کا خدا، موسیٰؑ اسے بھول گیا


English (Sahih International)

And he extracted for them [the statue of] a calf which had a lowing sound, and they said, “This is your god and the god of Moses, but he forgot


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 88 فَاَخْرَجَ لَہُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّہٗ خُوَارٌ ”اس سلسلے میں جو مختلف روایات ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ مصر میں اگرچہ اسرائیلی قوم کی حیثیت غلامانہ تھی مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے تعلق کی وجہ سے ان کی دیانت داری مسلمّ تھی۔ چناچہ قبطی قوم کے لوگ اپنے زیورات اور دوسری قیمتی چیزیں اکثر ان کے پاس امانت رکھوایا کرتے تھے۔ جب یہ لوگ مصر سے نکلے تو قبطی قوم کے بہت سے زیورات بھی وہ اپنے ساتھ لے آئے جو ان میں سے اکثر لوگوں کے پاس بطور امانت پڑے تھے۔ البتہ اس کا ان کے ذہن پر ایک بوجھ تھا کہ یہ ہمارے لیے جائز بھی ہیں یا نہیں ؟ اس حوالے سے سامری نے بھی انہیں قائل کرلیا کہ اس بوجھ سے نجات حاصل کرنے کے لیے ان کو یہ زیورات پھینک دینے چاہئیں۔ چناچہ جب ان لوگوں نے وہ زیوارت پھینک دیے تو سامری نے انہیں پگھلا کر گائے کے بچھڑے کی شکل کا ایک مجسمہ بنا ڈالا ‘ اور اس میں خاص مہارت سے کچھ ایسے سوراخ رکھے کہ جب ان میں سے ہوا کا گزر ہوتا تو بیل کے ڈکرانے کی سی آواز پیدا ہوتی۔ اس کی دوسری توجیہہ وہ ہے جو سامری نے خود بیان کی اور اس کا ذکر آئندہ آیات میں آئے گا۔فَقَالُوْا ہٰذَآ اِلٰہُکُمْ وَاِلٰہُ مُوْسٰی فَنَسِیَ ”یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مغالطہ ہوا ہے جو وہ علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کے لیے کوہ طور پر چلے گئے ہیں ‘ حالانکہ ہمارا اور ان علیہ السلام کا رب تو یہاں موجود ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

The commentary on this ayah is given with ayah 20:86.


Connections

  • Previous: 20_87
  • Next: 20_89
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes