Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَلَا تَمُدَّنَّ عَيۡنَيۡكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعۡنَا بِهِۦٓ أَزۡوَٰجٗا مِّنۡهُمۡ زَهۡرَةَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا لِنَفۡتِنَهُمۡ فِيهِۚ وَرِزۡقُ رَبِّكَ خَيۡرٞ وَأَبۡقَىٰ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور نگاہ اُٹھا کر بھی نہ دیکھو دُنیوی زندگی کی اُس شان و شوکت کو جو ہم نے اِن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے وہ تو ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالنے کے لیے دی ہے، اور تیرے رب کا دیا ہوا رزق حلال ہی بہتر اور پائندہ تر ہے
English (Sahih International)
And do not extend your eyes toward that by which We have given enjoyment to [some] categories of them, [its being but] the splendor of worldly life by which We test them. And the provision of your Lord is better and more enduring
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 131 and 132.
آیت 131 وَلَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ ”ہو بہو یہی الفاظ سورة الحجر ‘ آیت 88 میں بھی آئے ہیں کہ اے نبی ﷺ ! آپ ! ان کے مال و اسباب اور دنیوی آسائش و آرائش کے سامان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں ‘ مبادا کسی کو گمان ہو کہ آپ ﷺ کی نظروں میں بھی ان چیزوں کی کوئی وقعت اور اہمیت ہے۔زَہْرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَالا لِنَفْتِنَہُمْ فِیْہِ ط ” آپ ﷺ تو حقیقت آشنا ہیں ‘ آپ ﷺ تو جانتے ہیں کہ یہ دنیا اور اس کا مال و متاع سب کچھ فانی ہے اور مقصود اس سے صرف لوگوں کی آزمائش ہے۔ سورة الکہف میں اس حقیقت کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : اِنَّاجَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیْنَۃً لَّہَا لِنَبْلُوَہُمْ اَیُّہُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ”ہم نے تو جو کچھ بھی زمین پر ہے اسے اس کا بناؤ سنگھار بنایا ہے تاکہ انہیں ہم آزمائیں کہ ان میں کون بہتر ہے عمل میں۔“وَرِزْقُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی رض ”اور وہ رزق کون سا ہے ؟ سورة الحجر کی آخری آیات سے موازنہ کریں جن آیات سے ان آیات کی مشابہت کا ذکر کیا گیا ہے تو اس سوال کا جواب ان الفاظ میں ملتا ہے : وَلَقَدْ اٰتَیْنٰکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ ”اور ہم نے آپ ﷺ کو دی ہیں سات بار بار پڑھی جانے والی آیات اور عظمت والا قرآن۔“یعنی سورة الفاتحہ کی سات آیات ! یہ سورت ایک مؤمن کے لیے زندگی بھر کا وظیفہ ہے۔ ہر نماز کی ہر رکعت میں وہ اس کی تلاوت کرتا ہے۔ گویا یہ روحانی غذا اور روحانی دولت جو ایک مؤمن کو اپنے نبی ﷺ کی وساطت سے عطا ہوئی ہے ‘ دنیوی مال و متاع سے کہیں زیادہ عمدہ اور کہیں زیادہ باقی رہنے والی ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 131 and 132.
ان آیات کا خطاب اگر چہ بظاہر پیغمبر سے ہے مگر اس کے مخاطب تمام اہلِ ایمان ہیں۔ دنیا میں ایک شخص ایمان اور دعوت کی زندگی اختیار کرتاہے۔ اس کے نتیجے میں اس کی زندگی مشقتوں کی زندگی بن جاتی ہے۔ دوسری طرف یہ حال ہے کہ جو لوگ اس قسم کی ذمہ داریوں سے آزاد ہیں وہ آرام اور راحت میں اپنے صبح وشام گزاررہے ہیں۔ اس صورت حال کو نمایاں کرکے شیطان آدمی کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ وہ مومن اور داعی کو متزلزل کرنے کی کوشش کرتاہے۔
لیکن گہرائی سے دیکھا جائے تو اس ظاہری فرق کے آگے ایک اور فرق ہے اور وہ فرق زیادہ قابل لحاظ ہے۔وہ فرق یہ کہ دنیا پرست لوگوں کو جو چیز ملی ہے وہ محض امتحان کے لیے ہے اور سراسر وقتی ہے۔ اس کے بعد ابدی زندگی میں ان کے لیے کچھ نہیں۔ دوسری طرف مومن اور داعی کو خدا سے وابستگی اختیار کرنے کے نتیجہ میں جو چیز ملی ہے وہ تمام دنیا کی چیزوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ وہ ہے — اللہ کی یاد، آخرت کی فکر، عبادت اور تقویٰ کی زندگی، خدا کے بندوں کو آخرت کی پکڑ سے بچانے کے لیے فکر مند ہونا۔ یہ بھی رزق ہے۔ اور یہ زیادہ اعلیٰ رزق ہے کیوں کہ وہ آخرت میںایسی بے حساب نعمتوں کی شکل میں آدمی کی طرف لوٹے گا جوکبھی ختم ہونے والی نہیں۔