Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
فَٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ قَبۡلَ طُلُوعِ ٱلشَّمۡسِ وَقَبۡلَ غُرُوبِهَاۖ وَمِنۡ ءَانَآيِٕ ٱلَّيۡلِ فَسَبِّحۡ وَأَطۡرَافَ ٱلنَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرۡضَىٰ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
پس اے محمدؐ، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں اُن پر صبر کرو، اور اپنے رب کی حمد و ثنا کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو سورج نکلنے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے، اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور دن کے کناروں پر بھی، شاید کہ تم راضی ہو جاؤ
English (Sahih International)
So be patient over what they say and exalt [Allah] with praise of your Lord before the rising of the sun and before its setting; and during periods of the night [exalt Him] and at the ends of the day, that you may be satisfied
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِہَاج ”یہ نماز فجر اور نماز مغرب کی طرف اشارہ ہے۔وَمِنْ اٰنَآیئ الَّیْلِ فَسَبِّحْ ”اس سے نماز مغرب اور عشاء مراد ہیں۔وَاَطْرَاف النَّہَارِ ”دن کے دونوں اطراف سے دن کے آغاز اور سورج ڈھلنے کے بعد کے اوقات مراد ہیں۔ دن کے آغاز میں صلوٰۃ الضحیٰ یا نماز چاشت کا وقت ہے جبکہ سورج ڈھلنے کے بعد نماز ظہر کا۔ یعنی نصف النہار کے بعد جتنے وقفے پر نماز ظہر کا وقت ہے تقریباً اتنے ہی وقفے پر نصف النہار سے پہلے نماز چاشت کا وقت ہے۔ نمازوں کی تعداد اصل میں آٹھ ہے۔ ان میں سے تین کو فرض نہیں رکھا گیا جن کے اوقات چوبیس گھنٹوں میں بڑی خوبصورتی سے برابر تقسیم پر رکھے گئے ہیں ‘ اس طرح کہ تقریباً ہر تین گھنٹے بعد نماز کا وقت ہے۔ لیکن ان میں سے صرف پانچ نمازوں کو فرض کیا گیا ہے ‘ باقی تین اشراق ‘ چاشت ‘ اور تہجد کو نفلی قرار دے دیا گیا تاکہ عام لوگوں کو فجر سے ظہر تک اپنی معاشی سرگرمیوں کے لیے اور رات کو آرام کے لیے تسلسل کے ساتھ مناسب وقت مل سکے۔لَعَلَّکَ تَرْضٰی ”اگر آپ ﷺ اس پر عمل کریں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کو خوش کردیں گے۔ ان احکام کی تعمیل کا ایسا اجر ملے گا کہ آپ ﷺ راضی ہوجائیں گے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 20:128.