Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَنفِقُواْ مِمَّا رَزَقۡنَٰكُم مِّن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَ يَوۡمٞ لَّا بَيۡعٞ فِيهِ وَلَا خُلَّةٞ وَلَا شَفَٰعَةٞۗ وَٱلۡكَٰفِرُونَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو کچھ مال متاع ہم نے تم کو بخشا ہے، اس میں سے خرچ کرو، قبل اس کے کہ وہ دن آئے، جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی، نہ دوستی کام آئے گی اور نہ سفارش چلے گی اور ظالم اصل میں وہی ہیں، جو کفر کی روش اختیار کرتے ہیں
English (Sahih International)
O you who have believed, spend from that which We have provided for you before there comes a Day in which there is no exchange and no friendship and no intercession. And the disbelievers - they are the wrongdoers
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
تقریباً دو رکوعوں پر مشتمل طالوت اور جالوت کی جنگ کے واقعات ہم پڑھ چکے ہیں اور اب گویا غزوۂ بدر کے لیے ذہنی اور نفسیاتی تیاری ہو رہی ہے۔ غزوات کے لیے جہاں سرفروشی کی ضرورت ہے وہاں انفاق مال بھی ناگزیر ہے۔ چناچہ اب یہاں بڑے زور دار انداز میں انفاق مال کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔ جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے ‘ سورة البقرۃ کے نصف آخر میں چار مضامین تکرار کے ساتھ آئے ہیں۔ یعنی انفاق مال ‘ قتال ‘ عبادات اور معاملات۔ یہ گویا چار ڈوریاں ہیں جو ان بائیس رکوعوں کے اندر تانے بانے کی طرح گتھی ہوئی ہیں۔آیت 254 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لاَّ بَیْعٌ فِیْہِ وَلاَ خُلَّۃٌ وَّلاَ شَفَاعَۃٌ ط وَالْکٰفِرُوْنَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ یہاں کافر سے مراد اصطلاحی کافر نہیں ‘ بلکہ معنوی کافر ہیں ‘ یعنی اللہ کے حکم کا انکار کرنے والے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے اس حکم انفاق کی تعمیل نہیں کرتا ‘ دیکھتا ہے کہ دین مغلوب ہے اور اس کو غالب کرنے کیّ جدوجہدُ ہو رہی ہے ‘ اس کے کچھ تقاضے ہیں ‘ اس کی مالی ضرورتیں ہیں اور اللہ نے اسے مقدرت دی ہے کہ اس میں خرچ کرسکتا ہے لیکن نہیں کرتا ‘ وہ ہے اصل کافر۔اس کے بعد اب وہ آیت آرہی ہے جو ازروئے فرمان نبوی ﷺ قرآن حکیم کی عظیم ترین آیت ہے ‘ یعنی آیۃ الکرسی۔ اس کا نام بھی معروف ہے۔ میں نے آپ کو سورة البقرۃ میں آنے والے حکمت کے بڑے بڑے موتی اور بڑے بڑے پھول گنوائے ہیں ‘ مثلاً آیۃ الآیات ‘ آیۃ البر ‘ آیۃ الاختلاف ‘ اور اب یہ آیۃ الکرسی ہے جو توحید کے عظیم ترین خزانوں میں سے ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے تمام آیات قرآنی کی سردار قرار دیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : لِکُلِّ شَیْءٍ سَنَامٌ وَاِنَّ سَنَامَ الْقُرْآنِ سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃِ ‘ وَفِیْھَا آیَۃٌ ھِیَ سَیِّدَۃُ آیِ الْقُرْآنِ ‘ ھِیَ آیَۃُ الْکُرْسِیِّ 32ہر شے کی ایک چوٹی ہوتی ہے اور یقیناً قرآن حکیم کی چوٹی سورة البقرۃ ہے ‘ اس میں ایک آیت ہے جو آیات قرآنی کی سردار ہے ‘ یہ آیۃ الکرسی ہے۔جس طرح آیۃ البر اور سورة العصر میں ایک نسبت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور نجات کی ساری کی ساری شرائط ایک چھوٹی سی سورة میں جمع کردیں : وَالْعَصْرِ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بالْحَقِّ 5 وَتَوَاصَوْا بالصَّبْرِ لیکن اس کی تفصیل ایک آیت میں بیان ہوئی ہے اور وہ آیۃ البر ہے۔ چناچہ ہم نے مطالعۂ قرآن حکیم کا جو منتخب نصاب مرتبّ کیا ہے اس میں پہلا درس سورة العصر کا ہے اور دوسرا آیۃ البر کا ہے۔ یہی نسبت آیۃ الکرسی اور سورة الاخلاص میں ہے۔ سورة العصر ایک مختصر سی سورت ہے جبکہ آیۃ البر ایک طویل آیت ہے۔ اسی طرح سورة الاخلاص چار آیات پر مشتمل ایک چھوٹی سی سورت ہے اور یہ آیۃ الکرسی ایک طویل آیت ہے۔ سورة الاخلاص توحید کا عظیم ترین خزانہ ہے اور توحید کے موضوع پر قرآن حکیم کی جامع ترین سورت ہے ‘ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے ُ ثلث قرآن قرار دیا ہے ‘ جبکہ توحید اور خاص طور پر توحید فی الصفات کے موضوع پر قرآن کریم کی عظیم ترین آیت یہ آیۃ الکرسی ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 254 to 257.
خدا کو وہی پاتا ہے جو انفاق کی قیمت دے کر خدا کو اختیار کرے۔ اور کوئی آدمی جب خدا کو پالیتا ہے تو وہ ایک ایسی روشنی کو پالیتا ہے جس میں وہ بھٹکے بغیر چلتا رہے۔ یہاں تک کہ جنت میں پہنچ جائے۔ اس کے برعکس، جو شخص انفاق کی قیمت ديے بغیر خدا کو اختیار کرے وہ ہمیشہ اندھیرے میں رہتاہے۔ جہاں شیطان اس کو بہکا کر ایسے راستوں پر چلاتا ہے جس کی آخری منزل جہنم کے سوا اور کچھ نہیں۔
انفاق سے مراد اپنے آپ کواور اپنے اثاثہ کو دین کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ اپنی مصلحتوں کو قربان کرکے دین کی طرف آگے بڑھنا ہے۔ آدمی جب کسی عقیدہ کو انفاق کی قیمت پر اختیار کرے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کو اختیار کرنے میں سنجیدہ (sincere) ہے۔ یہ سنجیدہ ہونا بے حد اہم ہے۔ کسی معاملہ میں سنجیدہ ہونا ہی وہ چیز ہے جو آدمی پر اس معاملہ کے بھیدوں کو کھولتاہے۔ سنجیدہ ہونے کے بعد ہی یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ آدمی اور اس کے مقصد کے درمیان حقیقی تعلق قائم ہو، اور مقصد کے تمام پہلو اس پر واضح ہوں۔ اس کے برعکس معاملہ اس شخص کا ہے جو اپنی ہستی کی حوالگی کی قیمت پر دین کو اختیار نہ کرے۔ ایسا شخص کبھی دین کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہوگا، اور اس بنا پر وہ آخرت کے معاملہ کو ایک آسان معاملہ فرض کرلے گا۔ وہ سمجھے گا کہ بزرگوں کی سفارش یا دین کے نام پر کچھ رسمی اور ظاہری کارروائیاں آخرت کي نجات کے لیے کافی ہیں۔ آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس راز کو نہ سمجھے گا کہ آخرت تو مالکِ کائنات کے عظمت و جلال کے ظہور کا دن ہے۔ ایسے ایک دن کے بارے میں محض سرسری چیزوں پر کامیابی کی امید کرلینا خدا کی خدائی کا کمتر اندازہ کرناہے جو خدا کے یہاںآدمی کے جرم کو بڑھانے والا ہے، نہ کہ وہ اس کی مقبولیت کا سبب بنے— خدا کی بات آدمی کے سامنے دلیل کی زبان میں آتی ہے اور وہ کچھ الفاظ بول کر اس کو رد کردیتا ہے۔ یہی شیطانی وسوسہ ہے۔ ہدایت اس کو ملتی ہے جو شیطان کے وسوسہ سے اپنے کو بچائے اور خدائی دلیل کو پہچان کر اس کے آگے جھک جائے۔