Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
۞تِلۡكَ ٱلرُّسُلُ فَضَّلۡنَا بَعۡضَهُمۡ عَلَىٰ بَعۡضٖۘ مِّنۡهُم مَّن كَلَّمَ ٱللَّهُۖ وَرَفَعَ بَعۡضَهُمۡ دَرَجَٰتٖۚ وَءَاتَيۡنَا عِيسَى ٱبۡنَ مَرۡيَمَ ٱلۡبَيِّنَٰتِ وَأَيَّدۡنَٰهُ بِرُوحِ ٱلۡقُدُسِۗ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَا ٱقۡتَتَلَ ٱلَّذِينَ مِنۢ بَعۡدِهِم مِّنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُ وَلَٰكِنِ ٱخۡتَلَفُواْ فَمِنۡهُم مَّنۡ ءَامَنَ وَمِنۡهُم مَّن كَفَرَۚ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَا ٱقۡتَتَلُواْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَفۡعَلُ مَا يُرِيدُ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
یہ رسول (جو ہماری طرف سے انسانوں کی ہدایت پر مامور ہوئے) ہم نے ان کو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مرتبے عطا کیے ان میں کوئی ایسا تھا جس سے خدا خود ہم کلام ہوا، کسی کو اس نے دوسری حیثیتوں سے بلند درجے دیے، اور آخر میں عیسیٰ ابن مریمؑ کو روشن نشانیاں عطا کیں اور روح پاک سے اس کی مدد کی اگر اللہ چاہتا، تو ممکن نہ تھا کہ اِن رسولوں کے بعد جو لوگ روشن نشانیاں دیکھ چکے تھے، وہ آپس میں لڑتے مگر (اللہ کی مشیت یہ نہ تھی کہ وہ لوگوں کو جبراً اختلاف سے روکے، اس وجہ سے) انہوں نے باہم اختلاف کیا، پھر کوئی ایمان لایا اور کسی نے کفر کی راہ اختیار کی ہاں، اللہ چاہتا، تو وہ ہرگز نہ لڑتے، مگر اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے
English (Sahih International)
Those messengers - some of them We caused to exceed others. Among them were those to whom Allah spoke, and He raised some of them in degree. And We gave Jesus, the Son of Mary, clear proofs, and We supported him with the Pure Spirit. If Allah had willed, those [generations] succeeding them would not have fought each other after the clear proofs had come to them. But they differed, and some of them believed and some of them disbelieved. And if Allah had willed, they would not have fought each other, but Allah does what He intends
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 253 تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَہُمْ عَلٰی بَعْضٍ 7 یہ ایک بہت اہم اصول بیان ہو رہا ہے۔ یہ بات قبل ازیں بیان کی جا چکی ہے کہ تفریق بین الرسل کفر ہے ‘ جبکہ تفضیل قرآن سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں میں سے ہر ایک کو کسی نہ کسی پہلو سے فضیلت بخشی ہے اور اس اعتبار سے وہ دوسروں پر ممتاز ہے۔ چناچہ جزوی فضیلتیں مختلف رسولوں کی ہوسکتی ہیں ‘ البتہ کلیّ فضیلت تمام انبیاء و رسل علیہ السلام پر محمد رسول اللہ ﷺ کو حاصل ہے۔مِنْہُمْ مَّنْ کَلَّمَ اللّٰہُ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فضیلت کا خاص پہلو ہے۔وَرَفَعَ بَعْضَہُمْ دَرَجٰتٍ ط وَاٰتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَاَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ط وَلَوْ شَآء اللّٰہُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْم بَعْدِہِمْ یعنی نہ تو یہودیوں کی آپس میں جنگیں ہوتیں ‘ نہ یہودیوں اور نصرانیوں کی لڑائیاں ہوتیں ‘ اور نہ ہی نصرانیوں کے فرقے ایک دوسرے سے لڑتے۔مِّنْم بَعْدِ مَا جَآءَ تْہُمُ الْبَیِّنٰتُ وَلٰکِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْہُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَمِنْہُمْ مَّنْ کَفَرَ ط وَلَوْ شَآء اللّٰہُ مَا اقْتَتَلُوْاقف یعنی اگر اللہ تعالیٰ جبراً تکوینی طور پر ان پر لازم کردیتا تو وہ اختلاف نہ کرتے اور آپس میں جنگ وجدال سے باز رہتے۔وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس حکمت پر بنایا ہے کہ دنیا کی یہ زندگی آزمائش ہے۔ چناچہ آزمائش کے لیے اس نے انسان کو آزادی دی ہے۔ تو جو شخص غلط راستے پر جانا چاہتا ہے اسے بھی آزادی ہے اور جو صحیح راستے پر آنا چاہے اسے بھی آزادی ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 2:252.