Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 2:248 Prev 2:246


Arabic

وَقَالَ لَهُمۡ نَبِيُّهُمۡ إِنَّ ٱللَّهَ قَدۡ بَعَثَ لَكُمۡ طَالُوتَ مَلِكٗاۚ قَالُوٓاْ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ ٱلۡمُلۡكُ عَلَيۡنَا وَنَحۡنُ أَحَقُّ بِٱلۡمُلۡكِ مِنۡهُ وَلَمۡ يُؤۡتَ سَعَةٗ مِّنَ ٱلۡمَالِۚ قَالَ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصۡطَفَىٰهُ عَلَيۡكُمۡ وَزَادَهُۥ بَسۡطَةٗ فِي ٱلۡعِلۡمِ وَٱلۡجِسۡمِۖ وَٱللَّهُ يُؤۡتِي مُلۡكَهُۥ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٞ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اُن کے نبی نے ان سے کہا کہ اللہ نے طالوت کو تمہارے لیے بادشاہ مقرر کیا ہے یہ سن کر وہ بولے : “ہم پر بادشاہ بننے کا وہ کیسے حقدار ہو گیا؟ اُس کے مقابلے میں بادشاہی کے ہم زیادہ مستحق ہیں وہ تو کوئی بڑا ما ل دار آدمی نہیں ہے” نبی نے جواب دیا: “اللہ نے تمہارے مقابلے میں اسی کو منتخب کیا ہے اور اس کو دماغی و جسمانی دونوں قسم کی اہلیتیں فراوانی کے ساتھ عطا فرمائی ہیں اور اللہ کو اختیار ہے کہ اپنا ملک جسے چاہے دے، اللہ بڑی وسعت رکھتا ہے اور سب کچھ اُس کے علم میں ہے


English (Sahih International)

And their prophet said to them, “Indeed, Allah has sent to you Saul as a king.” They said, “How can he have kingship over us while we are more worthy of kingship than him and he has not been given any measure of wealth?” He said, “Indeed, Allah has chosen him over you and has increased him abundantly in knowledge and stature. And Allah gives His sovereignty to whom He wills. And Allah is all-Encompassing [in favor] and Knowing


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 247 وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ اِنَّ اللّٰہَ قَدْ بَعَثَ لَکُمْ طَالُوْتَ مَلِکًا ط۔ ان کا نام تورات میں ساؤل Saul آیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اصل نام ساؤل ہو ‘ لیکن چونکہ وہ بہت قد آور تھے اس لیے ان کا ایک صفاتی نام یا لقب طالوت ہو۔ طالوت کے معنی لمبے تڑنگے کے ہیں۔قَالُوْٓا اَنّٰی یَکُوْنُ لَہُ الْمُلْکُ عَلَیْنَا وَنَحْنُ اَحَقُّ بالْمُلْکِ مِنْہُ وَلَمْ یُؤْتَ سَعَۃً مِّنَ الْمَالِ ط۔ وہ تو مفلس ہے ‘ اسے تو اللہ تعالیٰ نے زیادہ دولت بھی نہیں دی ہے۔ کیونکہ ان کے معیارات یہی تھے کہ جو دولت مند ہے وہی صاحب عزت ہے۔قَالَ اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰٹہُ عَلَیْکُمْ ۔ یہ فیصلہ ہوچکا ہے۔ یہ اللہ کا فیصلہ ‘ Divine Decision ہے ‘ جسے کوئی تبدیل نہیں کرسکتا۔ اللہ نے اسی کو تمہاری سرداری کے لیے چنا ہے۔وَزَادَہٗ بَسْطَۃً فِی الْْعِلْمِ وَالْجِسْمِ ط۔ وہ نہ صرف قد آور اور طاقت ور ہے بلکہ اللہ نے اسے علم اور فہم بھی وافر عطا فرمایا ہے ‘ اسے امور جنگ سے بھی واقفیت ہے۔ تمہارے نزدیک عزت اور سرداری کا معیار دولت ہے ‘ مگر اللہ نے اسے ان دو چیزوں کی بنا پر چنا ہے۔ ایک تو وہ جسمانی طور پر مضبوط اور طاقتور ہے۔ اس دور میں ظاہر بات ہے اس کی بہت ضرورت تھی۔ اور دوسرے یہ کہ اسے علم ‘ فہم ‘ سمجھ اور دانش دی ہے۔ وَاللّٰہُ یُؤْتِیْ مُلْکَہٗ مَنْ یَّشَآءُ ط۔ اللہ کو اختیار ہے کہ اپنا ملک جس کو چاہے دے ‘ وہ جسے چاہے اپنی طرف سے اقتداربخشے۔وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ۔ اس کی وسعت اتھاہ ہے ‘ کوئی اس کا اندازہ نہیں کرسکتا ‘ اور وہ بڑا علم رکھنے والا ہے ‘ سب کچھ جاننے والا ہے۔ وہ جس کو جو کچھ دیتا ہے بربنائے علم دیتا ہے کہ کون اس کا مستحق ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

The commentary on this ayah is given with ayah 2:246.


Connections

  • Previous: 2_246
  • Next: 2_248
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes