Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 2:247 Prev 2:245


Arabic

أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلۡمَلَإِ مِنۢ بَنِيٓ إِسۡرَـٰٓءِيلَ مِنۢ بَعۡدِ مُوسَىٰٓ إِذۡ قَالُواْ لِنَبِيّٖ لَّهُمُ ٱبۡعَثۡ لَنَا مَلِكٗا نُّقَٰتِلۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۖ قَالَ هَلۡ عَسَيۡتُمۡ إِن كُتِبَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡقِتَالُ أَلَّا تُقَٰتِلُواْۖ قَالُواْ وَمَا لَنَآ أَلَّا نُقَٰتِلَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ وَقَدۡ أُخۡرِجۡنَا مِن دِيَٰرِنَا وَأَبۡنَآئِنَاۖ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقِتَالُ تَوَلَّوۡاْ إِلَّا قَلِيلٗا مِّنۡهُمۡۚ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِٱلظَّـٰلِمِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

پھر تم نے اُس معاملے پر بھی غور کیا، جو موسیٰؑ کے بعد سرداران بنی اسرائیل کو پیش آیا تھا؟ اُنہوں نے اپنے نبی سے کہا: ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کر دو تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں نبی نے پوچھا: کہیں ایسا تو نہ ہوگا کہ تم کو لڑائی کا حکم دیا جائے اور پھر تم نہ لڑو وہ کہنے لگے : بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم راہ خدا میں نہ لڑیں، جبکہ ہمیں اپنے گھروں سے نکال دیا گیا ہے اور ہمارے بال بچے ہم سے جدا کر دیے گئے ہیں مگر جب ان کو جنگ کا حکم دیا گیا، تو ایک قلیل تعداد کے سوا وہ سب پیٹھ موڑ گئے، اور اللہ ان میں سے ایک ایک ظالم کو جانتا ہے


English (Sahih International)

Have you not considered the assembly of the Children of Israel after [the time of] Moses when they said to a prophet of theirs, “Send to us a king, and we will fight in the way of Allah ”? He said, “Would you perhaps refrain from fighting if fighting was prescribed for you?” They said, “And why should we not fight in the cause of Allah when we have been driven out from our homes and from our children?” But when fighting was prescribed for them, they turned away, except for a few of them. And Allah is Knowing of the wrongdoers


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 246 اَلَمْ تَرَ اِلَی الْمَلَاِ مِنْم بَنِیْ اِسْرَآءِ یْلَ مِنْم بَعْدِ مُوْسٰی 7 اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّہُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِکًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط یہاں بادشاہ سے مراد امیر اور سپہ سالار ہے۔ ظاہر بات ہے کہ نبی کی موجودگی میں بلندترین مرتبہ تو نبی ہی کا رہے گا ‘ لیکن ایک ایسا امیر نامزد کردیجیے جو نبی کے تابع ہو کر جنگ کی سپہ سالاری کرسکے۔ میں حدیث بیان کرچکا ہوں کہ بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک کوئی نہ کوئی نبی ضرور موجود رہا ہے۔ اس وقت سیموئیل نبی تھے جن سے سرداران بنی اسرائیل نے یہ فرمائش کی تھی۔قَالَ ہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ اَلاَّ تُقَاتِلُوْا ط یعنی ابھی تو تمہارے بڑے دعوے ہیں ‘ بڑے جوش و خروش اور بہادری کا اظہار کر رہے ہو ‘ لیکن کہیں ایسا تو نہیں ہوگا کہ میں اللہ تعالیٰ سے جنگ کی اجازت بھی لوں اور تمہارے لیے کوئی سپہ سالار یا بادشاہ بھی مقرر کر دوں اور پھر تم جنگ سے کنی کترا جاؤ ؟قَالُوْا وَمَا لَنَآ اَلاَّ نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَقَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَاََبْنَآءِنَا ط دشمنوں نے ان کے بیٹوں کو غلام اور ان کی عورتوں کو باندیاں بنا لیا تھا اور یہ اپنے ملکوں سے خوف کے مارے بھاگے ہوئے تھے۔ چناچہ انہوں نے کہا کہ اب ہم جنگ نہیں کریں گے تو کیا کریں گے ؟فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْہِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا الاَّ قَلِیْلاً مِّنْہُمْ ط یہ گویا مسلمانوں کو تنبیہہ کی جا رہی ہے کہ تم بھی بہت کہتے رہے ہو کہ حضور ہمیں جنگ کی اجازت ملنی چاہیے ‘ لیکن ایسا نہ ہو کہ جب جنگ کا حکم آئے تو وہ تمہیں ناگوار گزرے۔ آیت 216 میں ہم یہ الفاظ پڑھ چکے ہیں : کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَھُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ ج تم پر جنگ فرض کی گئی ہے اور وہ تمہیں ناگوار ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 246 to 248.

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تقریباً تین سو سال بعد بنی اسرائیل اپنے پڑوس کی مشرک قوموں سے مغلوب ہوگئے۔ اسی حال میں تقریباً چوتھائی صدی گزارنے کے بعد ان کو احساس ہوا کہ وہ اپنے پچھلے دور کو واپس لائیں۔ اب اپنے دشمنوں سے لڑنے کے لیے ان کو ایک امیر لشکر کی ضرورت تھی۔ ان کے نبی سموئیل (1020-1100ق م) نے ان کے لیے ایک شخص کا تقرر کیا جس کا نام قرآن میں طالوت اور بائبل میں ساؤل آیا ہے۔ ذاتی اوصاف کے اعتبار سے وہ ایک موزوں شخص تھا۔ مگر بنی اسرائیل اس کی سرداری قبول کرنے کے بجائے اس قسم کے اعتراضات نکالنے لگے کہ وہ تو چھوٹے خاندان کا آدمی ہے۔ اس کے پاس مال و دولت نہیں۔ مگر اس طرح کی اختلافی بحثیں کسی قوم کے زوال یافتہ ہونے کی علامت ہیں۔ اللہ کے فیصلے وسعت اور علم کی بنا پر ہوتے ہیں۔ اس ليے وہی بندہ اللہ کا محبوب بندہ ہے جو خود بھی وسیع النظری کا طریقہ اختیار کرے اور جو فیصلہ کرے حقائق کی بنیاد پر کرے، نہ کہ تعصبات اور مصلحتوں کی بنیاد پر۔ تاہم صندوق کو واپس لاکر اللہ نے طالوت کے تقرر کی ایک غیر معمولی تصدیق بھی فرمادی۔

بنی اسرائیل کے یہاں ایک مقدس صندوق تھا جو مصر سے خروج کے زمانہ سے ان کے یہاں چلا آرہا تھا۔ اس میں تورات کی تختیاں اور دوسری متبرک چیزیں تھیں۔ بنی اسرائیل اس کو اپنے ليے فتح وکامیابی کا نشان سمجھتے تھے۔ فلستی اس صندوق کو ان سے چھین کر اٹھا لے گئے تھے۔ مگر اس کو انھوں نے جس جس بستی میں رکھا وہاں وہاں وبائیں پھوٹ پڑیں۔ اس سے انھوں نے برا شگون لیا اور صند وق کو ایک بیل گاڑی پر رکھ کر ہانک دیا۔ وہ اس کو لے کر چلتے رہے۔ یہاں تک کہ یہودیوں کی آبادی میں پہنچ گئے — اللہ اپنے کسی بندے کی صداقت کو ظاہر کرنے کے لیے کبھی اس کے گرد ایسی غیر معمولی چیزیں جمع کردیتا ہے جو عام انسانوں کے ساتھ جمع نہیں ہوتیں۔


Connections

  • Previous: 2_245
  • Next: 2_247
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes