Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 18:51 Prev 18:49


Arabic

وَإِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلَـٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ كَانَ مِنَ ٱلۡجِنِّ فَفَسَقَ عَنۡ أَمۡرِ رَبِّهِۦٓۗ أَفَتَتَّخِذُونَهُۥ وَذُرِّيَّتَهُۥٓ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِي وَهُمۡ لَكُمۡ عَدُوُّۢۚ بِئۡسَ لِلظَّـٰلِمِينَ بَدَلٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

یاد کرو، جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا وہ جنوں میں سے تھا اس لیے اپنے رب کے حکم کی اطاعت سے نکل گیا اب کیا تم مجھے چھوڑ کر اُس کو اور اس کی ذرّیّت کو اپنا سرپرست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں؟ بڑا ہی برا بدل ہے جسے ظالم لوگ اختیار کر رہے ہیں


English (Sahih International)

And [mention] when We said to the angels, “Prostrate to Adam,” and they prostrated, except for Iblees. He was of the jinn and departed from the command of his Lord. Then will you take him and his descendants as allies other than Me while they are enemies to you? Wretched it is for the wrongdoers as an exchange


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 50 وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ یہاں سورة بنی اسرائیل اور سورة الکہف کی مشابہت کے سلسلے میں یہ اہم بات نوٹ کیجئے کہ سورة الکہف کے ساتویں رکوع کی پہلی آیت کے الفاظ بعینہٖ وہی ہیں جو سورة بنی اسرائیل کے ساتویں رکوع کی پہلی آیت کے ہیں۔ حضرت آدم اور ابلیس کا یہ قصہ قرآن میں سات مقامات پر بیان ہوا ہے۔ باقی چھ مقامات پر تو اس کا ذکر نہیں مگر یہاں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ ابلیس جنات میں سے تھا : كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ یہاں پر ”فَ“ علت کو ظاہر کر رہا ہے کہ چونکہ وہ جنات میں سے تھا اس لیے نافرمانی کا مرتکب ہوا۔ ورنہ فرشتے کبھی اپنے رب کے حکم سے سرتابی نہیں کرتے : لَا یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَآ اَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ التحریم ”وہ فرشتے اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے وہ جو بھی حکم انہیں دے اور وہ وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔“ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗٓ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِيْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ اے اولاد آدم ! ذرا سوچو تم مجھے چھوڑ کر اس ابلیس کو اپنا ولی اور کارساز بناتے ہو جس نے یوں میری نافرمانی کی تھی۔ تمہارا خالق اور مالک میں ہوں میں نے تمہیں اشرف المخلوقات کے مرتبے پر فائز کیا میں نے فرشتوں کو تمہارے سامنے سرنگوں کیا تمہیں خلافت ارضی سے نوازا اور تم ہو کہ میرے مقابلے میں ابلیس اور اس کی صلبی و معنوی اولاد سے دوستیاں گانٹھتے پھرتے ہو جبکہ فی الواقع وہ تمہارے دشمن ہیں۔بِئْسَ للظّٰلِمِيْنَ بَدَلًااللہ کو چھوڑ کر اپنے دشمن شیطان اور اس کے چیلوں کی رفاقت اختیار کر کے ان ظالموں نے اپنے لیے کس قدر برا بدل اختیار کر رکھا ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس ایک عبادت گزار جن تھا۔ وہ بظاہر عابد وزاہد بنا ہوا تھا۔ مگر جب خدا نے آدم کے سامنے جھکنے کا حکم دیا تووہ گھمنڈ کی بنا پر جھکنے کے لیے تیار نہ ہوا۔ اب جو لوگ گھمنڈ کے جذبہ کے تحت حق کے سامنے جھکنے سے انکار کریں وہ سب ابلیس کی ذرّیت ہیں۔ خواہ وہ بظاہر عبادت گزارہی کیوں نہ دکھائی دیتے ہوں۔

خدا کے سامنے جھکنا دراصل خداکے مقابلہ میںاپنے عجز کا اقرار کرنا ہے۔ اگر کوئی شخص حقیقی معنوں میں خدا کے سامنے جھکنے والا ہو تو جہاں کہیں بھی اس کا سامنا حق سے ہوگا وہ فوراً جھک جائے گا۔ اس کے برعکس، جو شخص ظاہری طورپر سجدہ گزار ہو مگر اپنے اندر گھمنڈ کی نفسیات لیے ہوئے ہو وہ ایسے موقع پر بآسانی سجدہ کر لے گا جہاں اس کی اَنا (ego)کو ٹھیس نہ لگتی ہو۔ مگر جہاں اَناکو جھکانے کی قیمت پر اپنے آپ کو جھکانا پڑے وہاں اچانک وہ سرکش بن جائے گا اور جھکنے سے انکار کردے گا۔

جب حق کی پکار اٹھے اور کچھ لوگ ابلیس اور اس کی ذریت کے اثر میں آکر اس کو قبول نہ کریں تو گویا وہ ابلیس اور اس کی ذرّیت کو خدا کا بدل بنا رہے ہیں۔ جہاں انھیں خدا کے ڈر سے حق کے آگے جھک جانا چاہیے تھا وہاں وہ جھوٹے معبودوں کے ڈر سے اس کے آگے جھکنے سے انکار کررہے ہیں۔ ایسے لوگ بدترین ظالم ہیں۔ بہت جلد انھیں معلوم ہوجائے گا کہ خدا کو چھوڑ کر انھوںنے جن کے اوپر بھروسہ کیا تھا وہ ان کے کچھ کام آنے والے نہیں۔


Connections

  • Previous: 18_49
  • Next: 18_51
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes