Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَوُضِعَ ٱلۡكِتَٰبُ فَتَرَى ٱلۡمُجۡرِمِينَ مُشۡفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هَٰذَا ٱلۡكِتَٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةٗ وَلَا كَبِيرَةً إِلَّآ أَحۡصَىٰهَاۚ وَوَجَدُواْ مَا عَمِلُواْ حَاضِرٗاۗ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ أَحَدٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور نامہ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا اس وقت تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اپنی کتاب زندگی کے اندراجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ہائے ہماری کم بختی، یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی بڑی حرکت ایسی نہیں رہی جو اس میں درج نہ ہو گئی ہو جو جو کچھ انہوں نے کیا تھا وہ سب اپنے سامنے حاضر پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ذرا ظلم نہ کرے گا
English (Sahih International)
And the record [of deeds] will be placed [open], and you will see the criminals fearful of that within it, and they will say, “Oh, woe to us! What is this book that leaves nothing small or great except that it has enumerated it?” And they will find what they did present [before them]. And your Lord does injustice to no one
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 49 وَوُضِـعَ الْكِتٰبُ یہ پوری نوع انسانی کے ایک ایک فرد کی زندگی کے ایک ایک لمحے اور ایک ایک عمل کی تفصیل پر مشتمل ریکارڈ ہوگا۔ گویا یہ ایک بہت بڑا کمپیوٹر سسٹم ہے جو کسی جگہ پر نصب کیا گیا ہے اور وہاں سے لا کر میدان حشر میں رکھ دیا جائے گا۔ آج سے سو برس پہلے تو ایسی تفصیلات کو تسلیم کرنے کے لیے صرف ایمان بالغیب کا ہی سہارا لینا پڑتا تھا مگر آج کے دور میں اس سب کچھ پر یقین کرنا بہت آسان ہوگیا ہے۔ آج ہم انسان کے بنائے ہوئے کمپیوٹر کے کمالات اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور اپنے معمولات زندگی میں ان سے استفادہ کر رہے ہیں۔ آج جب ہم ایک بٹن جتنی جسامت کی chip میں مفصل معلومات پر مشتمل ریکارڈ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو ہمیں اللہ تعالیٰ کی وضع کردہ ڈیٹا بیس الکتاب کے بارے میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ اس میں کس طرح ایک ایک فرد کی ایک ایک حرکت کی ریکارڈنگ محفوظ ہوگی اور پلک جھپکنے کی دیر بھی نہیں لگے گی کہ اس کا پرنٹ متعلقہ فرد کے ہاتھ میں تھما دیا جائے گا۔فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْهِ مجرم لوگ اپنی کتاب زندگی کے اندراجات سے لرزاں و ترساں ہوں گے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
انسان جو کچھ کرتا ہے وہ سب خداکے انتظام کے تحت ریکارڈ ہو رہا ہے۔ آدمی کی نیت، اس کا قول اور اس کا عمل سب کائناتی پردہ پر نقش ہورہے ہیں۔ تاہم یہ انتظام آج دکھائی نہیں دیتا۔ قیامت میں یہ اوٹ ہٹا دی جائے گی۔ اس وقت انسان یہ دیکھ کر دہشت زدہ رہ جائے گا کہ دنیا میں جو کچھ وہ یہ سمجھ کر کر رہا تھا کہ کوئی اس کو جاننے والا نہیں، وہ اتنے کامل طورپر یہاں مندرج ہے کہ اس کی فہرست سے نہ کوئی چھوٹی چیز بچی ہے اور نہ کوئی بڑی چیز۔
قیامت کے دن انسان کے ساتھ جو معاملہ کیا جائے گا اس کی ہرچیز اتنی ثابت شدہ ہوگی کہ آدمی جب اپنے عمل کابدلہ پائے گا تو اس کو یقین ہوگا کہ اس کے ساتھ وہی کیا جارہا ہے جس کاوہ فی الواقع مستحق تھا، نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ۔