Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَأُحِيطَ بِثَمَرِهِۦ فَأَصۡبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيۡهِ عَلَىٰ مَآ أَنفَقَ فِيهَا وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَيَقُولُ يَٰلَيۡتَنِي لَمۡ أُشۡرِكۡ بِرَبِّيٓ أَحَدٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
آخرکار ہوا یہ کہ اس کا سارا ثمرہ مارا گیا اور وہ اپنے انگوروں کے باغ کو ٹٹیوں پر الٹا پڑا دیکھ کر اپنی لگائی ہوئی لاگت پر ہاتھ ملتا رہ گیا اور کہنے لگا کہ “کاش! میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرایا ہوتا
English (Sahih International)
And his fruits were encompassed [by ruin], so he began to turn his hands about [in dismay] over what he had spent on it, while it had collapsed upon its trellises, and said, “Oh, I wish I had not associated with my Lord anyone
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 42 وَاُحِيْطَ بِثَمَرِهٖ اس شخص کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نعمتیں دی گئی تھیں وہ سب اس سے سلب کرلی گئیں۔ باغ بھی اجڑ گیا اور اولاد بھی چھن گئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دوسرا شخص اللہ کا خاص مقرب بندہ تھا۔ مال دار شخص نے اسے اس کی ناداری کا طعنہ دیا تھا : اَنَا اَکْثَرُ مِنْکَ مَالًا وَّاَعَزُّ نَفَرًا کہ مال و دولت میں بھی مجھے تم پر فوقیت حاصل ہے اور نفری میں بھی میں تم سے بڑھ کر ہوں۔ اس طعنے سے اللہ کے اس نیک بندے کا دل دکھا ہوگا جس کی سزا اسے فوری طور پر ملی اور اللہ نے اس سے سب کچھ چھین لیا۔ اس سلسلے میں ایک حدیث قدسی ہے : مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیاًّ فَقَدْ آذَنْتُہٗ بالْحَرْبِ ”جو شخص میرے کسی ولی کے ساتھ دشمنی کرے تو میری طرف سے اس کے خلاف اعلان جنگ ہے“۔ کسی شاعر نے اس مضمون کو اس طرح ادا کیا ہے : تا دل صاحب دلے نالد بہ درد ہیچ قومے را خدا رسوا نہ کرد !یعنی کسی صاحب دل ولی اللہ کے دل کو جب ٹھیس لگتی ہے تو اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پوری قوم گرفت میں آجاتی ہے۔فَاَصْبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيْهِ عَلٰي مَآ اَنْفَقَ فِيْهَایقیناً ان باغوں کی منصوبہ بندی کرنے پودے لگانے اور ان کی نشو ونما کرنے میں اس نے زر کثیر خرچ کیا تھا مسلسل محنت کی تھی اور اپنا قیمتی وقت اس میں کھپایا تھا۔ اس کا یہ تمام سرمایہ آن کی آن میں نیست و نابود ہوگیا اور وہ اس کی بربادی پر کف افسوس ملنے کے علاوہ کچھ نہ کرسکا۔وَھِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰي عُرُوْشِهَاانگوروں کی بیلیں جن چھتریوں پر چڑھائی گئی تھیں وہ سب کی سب اوندھی پڑی تھیں۔وَيَـقُوْلُ يٰلَيْتَنِيْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّيْٓ اَحَدًااس مال دار شخص کے مکالمے سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے اختیار کو بھلا کر ظاہری اسباب اور مادی وسائل پر توکل کرلیا تھا اور یہی وہ شرک تھا جس کا خود اس نے یہاں اعتراف کیا ہے۔ آج کی مادہ پرستانہ ذہنیت کا مکمل نقشہ اس رکوع میں پیش کردیا گیا ہے۔ یہ شرک کی جدید قسم ہے جس کو پہچاننے اور جس سے محتاط رہنے کی آج ہمیں اشد ضرورت ہے۔ اس حوالے سے میری کتاب ”حقیقت و اقسام شرک“ کا مطالعہ مفید رہے گا جس میں شرک اور اس کی اقسام کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 42 to 44.
آدمی ایک کام میں اپنی پونجی لگاتا ہے اور اپنی قابلیت صرف کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میری قابلیت اور میری پونجی کامیاب نتیجہ کے ساتھ میری طرف لوٹے گی۔ مگر مختلف قسم کے حادثات آتے ہیں اور اس کی امیدوں کو تہس نہس کردیتے ہیں۔ آدمی کی کوئی بھی تدبیر یا اس کی کوئی بھی قابلیت اس کو بچانے والی ثابت نہیں ہوتی۔
خدا موجودہ دنیامیں بار بارا اس طرح کے نمونے دکھاتا ہے تاکہ انسان اس سے سبق لے۔ تاکہ وہ خدا کے سوا کسی دوسری چیز کو اہمیت دینے کی غلطی نہ کرے۔