Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
أَوۡ يُصۡبِحَ مَآؤُهَا غَوۡرٗا فَلَن تَسۡتَطِيعَ لَهُۥ طَلَبٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
یا اس کا پانی زمین میں اتر جائے اور پھر تو اسے کسی طرح نہ نکال سکے
English (Sahih International)
Or its water will become sunken [into the earth], so you would never be able to seek it
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 41 اَوْ يُصْبِحَ مَاۗؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِيْعَ لَهٗ طَلَبًااللہ تمہارے باغ پر کوئی آسمانی آفت نہ بھی بھیجے تو یوں بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے حکم سے اس کا زیر زمین پانی غیر معمولی گہرائی میں چلا جائے۔ اس کے نتیجے میں تمہارا بنایا ہوا نظام آب پاشی ختم ہو کر رہ جائے اور اس طرح پانی کے بغیر یہ باغ خود بخود ہی اجڑ جائے۔ یعنی حقیقی مسبب الاسباب تو اللہ ہی ہے۔ اسی نے مختلف اسباب مہیا کر رکھے ہیں جس سے یہ کاروبار دنیا چل رہا ہے۔ وہ جب چاہے کسی سبب کو سلب کرلے یا اس کی ہیئت کو بدل دے اور اس کی وجہ سے یہ سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے۔ یہ معاملہ تو گویا شیش محل کی طرح کا ہے کہ ایک ہی پتھر اس کو چکنا چور کر کے رکھ دے گا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 18:37.