Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
يَوۡمَ نَدۡعُواْ كُلَّ أُنَاسِۭ بِإِمَٰمِهِمۡۖ فَمَنۡ أُوتِيَ كِتَٰبَهُۥ بِيَمِينِهِۦ فَأُوْلَـٰٓئِكَ يَقۡرَءُونَ كِتَٰبَهُمۡ وَلَا يُظۡلَمُونَ فَتِيلٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
پھر خیال کرو اس دن کا جب کہ ہم ہر انسانی گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے اُس وقت جن لوگوں کو ان کا نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا گیا وہ اپنا کارنامہ پڑھیں گے اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا
English (Sahih International)
[Mention, O Muhammad], the Day We will call forth every people with their record [of deeds]. Then whoever is given his record in his right hand - those will read their records, and injustice will not be done to them, [even] as much as a thread [inside the date seed]
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 71 يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ پھر ذرا اس دن کا خیال کرو جس دن تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی کے لیے اس طرح بلایا جائے گا کہ ہر گروہ اپنے راہنما یا لیڈر کے ساتھ حاضر ہوگا۔ پچھلی آیات میں تمام مخلوق پر انسان کی فضیلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ چناچہ جب انسان کو اس کائنات میں اس قدر اعلیٰ مقام اور مرتبے سے نوازا گیا ہے تو پھر اس کا محاسبہ بھی ہونا چاہیے : ”جن کے رتبے ہیں سوا ‘ ان کی سوا مشکل ہے !“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 71 and 72.
دنیا میں ہر انسانی گروہ اپنے رہنماؤں کے ساتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ آخرت میں بھی ہر گروہ اپنے اپنے رہنما کے ساتھ بلایا جائے گا۔ اچھے لوگ اپنے رہنما کے ساتھ اور برے لوگ اپنے رہنما کے ساتھ۔
اس کے بعد ہر ایک کو ا س کی زندگی کا اعمال نامہ دیاجائے گا۔ نیک لوگوں کا اعمال نامہ ان کے دائیں ہاتھ ميں اور برے لوگوں کا اعمال نامہ ان کے بائیں ہاتھ میں۔ یہ گویا ایک محسوس علامت ہوگی کہ پہلا گروہ خداکا مقبول گروہ ہے اور دوسرا گروہ اس کا نا مقبول گروہ۔
آخرت میںاچھے اور برے کی جو تقسیم ہوگی وہ اس بنیاد پر ہوگی کہ کون دنیا میں اندھا بن کر رہا اور کون بینا بن کر۔ دنیا میں چوں کہ خدا خود براہِ راست انسان سے ہم کلام نہیںہوتا۔ اس لیے دنیا کی زندگی میں خداکی باتوں کو کائنات کی خاموش نشانیوں اور داعیانِ حق کے الفاظ سے جاننا پڑتاہے۔ جو لوگ اس بالواسطہ کلام سے معرفت حاصل کریں، وہ خدا کی نظر میں ’’بینا‘‘ لوگ ہیں۔ اور جو لوگ بالواسطہ کلام کی زبان نہ سمجھیں اور اس وقت کے منتظر ہوں جب خدا ظاہر ہو کر خود کلام فرمائے گا وہ خدا کی نظر میں ’’اندھے‘‘ لوگ ہیں۔ ایسے لوگوں کا براہِ راست کلام کو سننا کچھ بھی کام نہ آئے گا۔ وہ اس وقت بھی حقیقت سے بہت دور رہیں گے جیسا کہ آج اس سے دور پڑے ہوئے ہیں۔