Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
۞وَلَقَدۡ كَرَّمۡنَا بَنِيٓ ءَادَمَ وَحَمَلۡنَٰهُمۡ فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ وَرَزَقۡنَٰهُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَفَضَّلۡنَٰهُمۡ عَلَىٰ كَثِيرٖ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِيلٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی اور انہیں خشکی و تری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی
English (Sahih International)
And We have certainly honored the children of Adam and carried them on the land and sea and provided for them of the good things and preferred them over much of what We have created, with [definite] preference
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 70 وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ یہ آیت بہت واضح انداز میں اس حقیقت کا اظہار کر رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی معراج climax انسان ہے۔ اس فلسفے کی وضاحت سورة النحل کی آیت 40 کی تشریح کے ضمن میں ہوچکی ہے۔ وہاں میں نے بہت تفصیل سے کائنات اور انسان کی تخلیق کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ اس تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کائنات کا نقطہ آغاز اللہ تعالیٰ کا امر کن ہے۔ حرف کن سے خنک نور کا ظہور ہوا اس نور سے ملائکہ اور انسانی ارواح کی تخلیق ہوئی پھر Big Bang کے نتیجے میں حرارت کا گولا وجود میں آیا جس کے متحرک ذرات سے کہکشائیں ستارے اور سیارے بنے۔ اسی دور میں اس حرارت سے جنات کی تخلیق ہوئی۔ دوسرے بیشمار ستاروں اور سیاروں کی طرح ہماری زمین بھی ابتدا میں بہت گرم تھی۔ یہ آہستہ آہستہ ٹھنڈی ہوئی۔ پھر اس پر ہزاروں برس مسلسل بارش برستی رہی جس سے زمین پر ہر طرف پانی پھیل گیا۔ اس کے بعد زمین پر نباتاتی اور حیوانی حیات کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد پھر تمام مخلوق کے بادشاہ ”انسان“ کی تخلیق عمل میں آئی۔ اس پورے فلسفے کو مرزا بیدل نے اپنے اس شعر میں بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے : ہر دو عالم خاک شد تا بست نقش آدمی اے بہار نیستی از قدر خود ہشیار باش !اس خوبصورت شعر کا مفہوم و مطلب بھی سورة النحل کی مذکورہ آیت کی تشریح کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ وَحَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ یہاں ”ہم“ سے اللہ تعالیٰ کا نظام قدرت مراد ہے جس کے تحت بحر و بر میں انسانوں کی مختلف نوعیت کی سرگرمیاں ممکن بنا دی گئیں ہیں اور یوں لگتا ہے جیسے یہ معاون اور دوستانہ ماحول انسان کو اپنی گود میں اٹھائے ہوئے ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
دنیا کی تمام مخلوقات میں انسان کو خصوصی فضیلت حاصل ہے۔ چاند اور ستارے بے شعور مخلوق ہیں جب کہ انسان شعور اور ارادہ کا مالک ہے۔ درخت پر دوسرے جس طرح چاہتے ہیں تصرف کرتے ہیں مگر انسان خود دوسری چیزوں کے اوپر تصرف کرتاہے۔ جانور صرف اپنے اعضاء کے ذریعہ عمل کرتے ہیں مگر انسان اوزار اور مشین بنا کر ان کے ذریعہ اپنا مقصد حاصل کرتاہے۔ دریا کے لیے صرف یہ ممکن ہے کہ وہ نشیب کے رخ پر بہے مگر انسان بلندیوں پر چڑھتا ہے اور بہاؤ کے الٹے رخ پر سفر کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
انسان کے لیے اس دنیا میں رزق کا شاہانہ انتظام کیا گیا ہے۔ درخت کے پتے شمسی انرجی کو کیمیائی انرجی میں تبدیل کرتے ہیں تا کہ اس سے انسان کی غذا تیار ہو۔ جانور گھاس کھاتے ہیں تاکہ اس کو انسان کے لیے دودھ اور گوشت کی شکل میں لوٹائیں۔ مکھیاں رات دن سرگرم رہتی ہیں تاکہ وہ دنیا بھر کے پھولوں کا رس چوس کر انسان کے لیے شہد کا ذخیرہ کریں، وغیرہ وغیرہ۔
اس انعام کا تقاضا تھا کہ انسان خدا کا شکر گزار بنے۔ مگر تمام مخلوقات میں انسان ہی وہ مخلوق ہے جو سب سے کم خدا کا شکر ادا کرتاہے۔