Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 17:55 Prev 17:53


Arabic

رَّبُّكُمۡ أَعۡلَمُ بِكُمۡۖ إِن يَشَأۡ يَرۡحَمۡكُمۡ أَوۡ إِن يَشَأۡ يُعَذِّبۡكُمۡۚ وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ عَلَيۡهِمۡ وَكِيلٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

تمہارا رب تمہارے حال سے زیادہ واقف ہے، وہ چاہے تو تم پر رحم کرے اور چاہے تو تمہیں عذاب دے دے اور اے نبیؐ، ہم نے تم کو لوگوں پر حوالہ دار بنا کر نہیں بھیجا ہے


English (Sahih International)

Your Lord is most knowing of you. If He wills, He will have mercy upon you; or if He wills, He will punish you. And We have not sent you, [O Muhammad], over them as a manager


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ وَكِيْلًاہدایت کو قبول کرنا یا نہ کرنا ہر شخص کا ذاتی معاملہ اور ذاتی انتخاب ہے۔ آپ ان تک پیغام پہنچانے کے ذمہ دار ہیں انہیں ہدایت پر لانے کے مکلف نہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 54 and 55.

ایک شخص سچے دین کی دعوت دے اور دوسرا شخص اس کو نہ مانے تو داعی کے اندر جھنجھلاہٹ پیدا ہوجاتی ہے کہ یہ شخص کیسا ہے کہ کھلی ہوئی صداقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ کبھی بات اور آگے بڑھتی ہے اور وہ اعلان کربیٹھتا ہے کہ یہ شخص جہنمی ہے۔ اس قسم کا کلام داعی کے لیے کسی حال میں جائز نہیں۔

ایک ہے حق کا پیغام پہنچانا۔ اور ایک ہے پیغام کے رد عمل کے مطابق ہر ایک کو اس کا بدلہ دینا۔ پہلا کام داعی کا ہے اور دوسرا کام خدا کا۔ داعی کو کبھی یہ غلطی نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنے دائرہ سے گزر کر خدا کے دائرہ میںداخل ہوجائے۔

اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان اپنے اپنے مقتداؤں کی فضیلت کی بحث اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ ہر ایک اپنے پیشوا کو دوسرے سے اعلیٰ اور افضل ثابت کرنے میں لگ جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو بحث اصول کے دائرہ میں رہنی چاہیے وہ شخصیت کے دائرہ میں چلی جاتی ہے اور تعصبات کو جگا کر قبول حق کی راہ میں مزید رکاوٹ کھڑی کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اس سلسلہ میں کہاگیا کہ یہ خدا کا معاملہ ہے کہ وہ کس کو کیا درجہ دیتاہے۔ تم کو چاہیے کہ اس قسم کی بحث سے اعراض کرتے ہوئے اصل پیغام کو پہنچانے میں لگے رہو۔


Connections

  • Previous: 17_53
  • Next: 17_55
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes