Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَقُل لِّعِبَادِي يَقُولُواْ ٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُۚ إِنَّ ٱلشَّيۡطَٰنَ يَنزَغُ بَيۡنَهُمۡۚ إِنَّ ٱلشَّيۡطَٰنَ كَانَ لِلۡإِنسَٰنِ عَدُوّٗا مُّبِينٗا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور اے محمدؐ، میرے بندوں سے کہہ دو کہ زبان سے وہ بات نکالا کریں جو بہترین ہو دراصل یہ شیطان ہے جو انسانوں کے درمیان فساد ڈلوانے کی کوشش کرتا ہے حقیقت یہ ہے کہ شیطان انسا ن کا کھلا دشمن ہے
English (Sahih International)
And tell My servants to say that which is best. Indeed, Satan induces [dissension] among them. Indeed Satan is ever, to mankind, a clear enemy
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 53 وَقُلْ لِّعِبَادِيْ يَـقُوْلُوا الَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ یہاں وہ نکتہ ذہن میں تازہ کر لیجیے جس کی قبل ازیں وضاحت ہوچکی ہے کہ مکی سورتوں میں اہل ایمان کو براہ راست مخاطب نہیں کیا گیا۔ ان سے براہ راست تخاطب کا سلسلہ یٰٓاَیُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُوْا تحویل قبلہ کے بعد شروع ہوا جب انہیں باقاعدہ امت مسلمہ کے منصب پر فائز کردیا گیا۔ اس سے پہلے اہل ایمان کو رسول اللہ کی وساطت سے ہی مخاطب کیا جاتا رہا۔ چناچہ اسی اصول کے تحت یہاں بھی حضور سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ میرے بندوں مؤمنین کو میری طرف سے یہ بتادیں کہ وہ ہر حال میں خوش اخلاقی کا مظاہرہ کریں اور گفتگو میں کبھی ترشی اور تلخی نہ آنے دیں۔ اس طرح آپس میں بھی شیر و شکر بن کر رہیں اور مخالفین کے سامنے بھی بہتر اخلاق کا نمونہ پیش کریں۔ اقامت دین کے اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے مؤمنین کے سامنے بہت زیادہ رکاوٹیں ہیں۔ ان کے مخاطبین جہالت کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے جاہلانہ اعتقادات نسلوں سے چلے آ رہے ہیں۔ اسی طرح انہیں اپنے رسم و رواج سیاسی و معاشی مفادات اور غیرت و حمیت کے جذبات بہت عزیز ہیں۔ انہیں اس سب کچھ کا دفاع کرنا ہے اور اس کے لیے وہ ہر طرح کی قربانیاں دینے کو تیار ہیں۔ ان حالات میں داعیانِ حق کو تحمل بردباری اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اشتعال میں آکر اعلیٰ اخلاق کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
یہ آیت داعی اور مدعو کے نازک رشتہ کے بارے میں ہے۔ حکم دیا گیا ہے کہ مدعو کی طرف سے خواہ کتنی ہی سخت بات کہی جائے اور کتنا ہی اشتعال انگیز معاملہ کیا جائے، داعی کو ہر حال میں قول احسن کا پابند رہناہے۔ کیوں کہ داعی اگر جوابی ذہن کے تحت کارروائی کرے تو مدعو کے اندر مزید نفرت اور ضد کی نفسیات ابھرے گی۔ اور داعی اور مدعو کے درمیان ایسی کش مکش پیدا ہوگی کہ لوگ داعی کی بات کو ٹھنڈے ذہن کے ساتھ سننے کے قابل ہی نہ رہیں۔
داعی اور مدعو کے اندر ضد اور نفرت کی فضا پیدا ہونا سراسر شیطان کی موافقت میں ہے تاکہ وہ حق کے پیغام کو لوگوں کے لیے ناقابل قبو ل بنا دے۔ اس لیے اگر داعی اپنے کسی فعل سے مدعو کے اندر ضد اور نفرت کی نفسیات جگانے لگے تو گویا کہ اس نے شیطان کاکام کیا، اس نے اپنے دشمن کا کام خود اپنے ہاتھ سے انجام دے دیا۔