Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 17:41 Prev 17:39


Arabic

أَفَأَصۡفَىٰكُمۡ رَبُّكُم بِٱلۡبَنِينَ وَٱتَّخَذَ مِنَ ٱلۡمَلَـٰٓئِكَةِ إِنَٰثًاۚ إِنَّكُمۡ لَتَقُولُونَ قَوۡلًا عَظِيمٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

کیسی عجیب بات ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں تو بیٹوں سے نوازا اور خود اپنے لیے ملائکہ کو بیٹیاں بنا لیا؟ بڑی جھوٹی بات ہے جو تم لوگ زبانوں سے نکالتے ہو


English (Sahih International)

Then, has your Lord chosen you for [having] sons and taken from among the angels daughters? Indeed, you say a grave saying


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 40 اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بالْبَنِيْنَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنَاثًایہ اہل عرب کے اس عقیدے کا جواب ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یہ لوگ بیٹوں پر فخر کرتے تھے اور بیٹیوں کو اپنے لیے باعث عار سمجھتے تھے۔ ان کی اسی سوچ کی بنیاد پر ان سے سوال کیا گیا ہے کہ جس چیز کو اپنے لیے عار سمجھتے ہو اسے آخر کس منطق کے مطابق اللہ سے منسوب کرتے ہو ؟


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 40 to 44.

حقیقت اتنی کامل اور مکمل ہے کہ جو بھی خلاف واقعہ بات اس کے ساتھ منسوب کی جائے وہ فوراً بے جوڑ ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانے کا معاملہ ہے۔

مشرک لوگ اپنے مفروضہ شرکاء کو خدا کی اولاد کہتے ہیں مگر یہ بات خود ہی اپنے دعوے کی تردید ہے۔ اگر ان شرکاء کو مؤنث قرار دے کر خدا کی بیٹیا ں کہا جائے تو فوراً یہ اعتراض واقع ہوتاہے کہ بیٹیاں خود مشرکین کے اعتراف کے مطابق، کمزور صنف سے تعلق رکھتی ہیں۔ پھر خدا نے کمزور صنف کو اپنا شریک بنانا کیوں پسند کیا۔ کیسی عجیب بات ہوگی کہ خدا انسانوں کو ان کی محبوب اولاد کی حیثیت سے بیٹا دے اور خود اپنے لیے بیٹیوں کا انتخاب کرے۔

اس کے برعکس، اگر ان شرکاء کو بیٹا فرض کیاجائے جو انسانی تجربات کے مطابق قوت وطاقت کی علامت ہے تب بھی یہ بات ناقابل فہم ہے۔ کیوں کہ اقتدار ایک ناقابل تقسیم چیز ہے۔ جب بھی کسی نظام میں ایک سے زیادہ صاحب طاقت اور صاحب اقتدار ہوں تو ان کے درمیان لازماً کش مکش شروع ہوجاتی ہے۔ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتاہے کہ اس کو مطلق اقتدار مل جائے۔ اب اگر کائنات میں ایک سے زیادہ طاقت ور ہستیاں ہوتیں تو ان کے درمیان ضرور اقتدار کی جنگ برپا ہوجاتی اور کائنات کے سارے نظام میں اختلال و انتشار پیدا ہوجاتا۔ مگر چوں کہ کائنات میں کوئی اختلال وانتشار نہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہاں دوسری ایسی ہستیاں بھی موجود نہیں جو خداکے ساتھ اس کی طاقت میں حصہ دار ہوں۔

شرکاء کو اگر بیٹے کہا جائے تب بھی وہ صورت واقعہ سے ٹکراتا ہے اور بیٹیاں کہا جائے تب بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ ایسے ہر تصور کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہے جس میں خدا کی خدائی میں کسی اور کو شریک کیاگیا ہو۔


Connections

  • Previous: 17_39
  • Next: 17_41
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes