Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
ذَٰلِكَ مِمَّآ أَوۡحَىٰٓ إِلَيۡكَ رَبُّكَ مِنَ ٱلۡحِكۡمَةِۗ وَلَا تَجۡعَلۡ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ فَتُلۡقَىٰ فِي جَهَنَّمَ مَلُومٗا مَّدۡحُورًا
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جو تیرے رب نے تجھ پر وحی کی ہیں اور دیکھ! اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا بیٹھ ورنہ تو جہنم میں ڈال دیا جائے گا ملامت زدہ اور ہر بھلائی سے محروم ہو کر
English (Sahih International)
That is from what your Lord has revealed to you, [O Muhammad], of wisdom. And, [O mankind], do not make [as equal] with Allah another deity, lest you be thrown into Hell, blamed and banished
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 39 ذٰلِكَ مِمَّآ اَوْحٰٓى اِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ یہ احکام نوع انسانی کے لیے خزینہ حکمت ہیں۔ انسانی تہذیب و تمدن ثقافت اور اجتماعیت کے ان اصولوں پر کاربند ہو کر انسان اسی دنیا میں اپنی اجتماعی زندگی کو جنت بنا سکتا ہے۔وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِيْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًایہاں قابل غور نکتہ یہ ہے کہ ان احکام میں اول و آخر توحید کا حکم دیا گیا ہے۔ آغاز میں وَقَضٰی رَبُّکَ اَلاَّ تَعْبُدُوْٓا الآَّ اِیَّاہُ کے الفاظ آئے تھے ‘ جبکہ آخر میں اسی مضمون کو وَلاَ تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ کے الفاظ میں پھر دہرایا گیا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
اوپر کی آیتوں میں جو احکام دئے گئے ان کو یہاں حکمت کہاگیاہے۔ حکمت کا مطلب ہے ٹھوس حقیقت، دانائی کی بات۔ یہ باتیں جو یہاں بتائی گئی ہیں یہ زندگی کے محکم حقائق ہیں۔ ان کی بنیاد پر درست زندگی کی تعمیر ہوتی ہے۔ اور جو انسانی معاشرہ ان سے خالی ہو اس کے لیے خدا کی دنیا میں ہلاکت کے سوا اور کوئی چیز مقدر نہیں۔ آج بھی اور آج کے بعد کی زندگی میں بھی۔
مذکورہ بالا نصیحتوں کا بیان توحید سے شروع ہوا تھا (آیت نمبر
22
)، اب ان کا خاتمہ بھی توحید پر کیاگیا ہے (آیت نمبر
39
) یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ تمام بھلائیوں کی بنیاد یہ ہے کہ آدمی ایک خداکو اپنا خدا بنائے۔ وہ اسی سے ڈرے اور اسی سے محبت کرے۔ خدا سے درست تعلق ہی میں زندگی کی درستی کا راز چھپا ہوا ہے۔ اگر خدا سے تعلق درست نہ ہو تو کوئی بھی دوسری چیز انسانی زندگی کے نظام کو درست نہیں کرسکتی۔ خدا انسان کا آغاز ہے اور وہی اس کا اختتام بھی۔