Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 17:26 Prev 17:24


Arabic

رَّبُّكُمۡ أَعۡلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمۡۚ إِن تَكُونُواْ صَٰلِحِينَ فَإِنَّهُۥ كَانَ لِلۡأَوَّـٰبِينَ غَفُورٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ تمہارے دلوں میں کیا ہے اگر تم صالح بن کر رہو تو وہ ایسے سب لوگوں کے لیے در گزر کرنے والا ہے جو اپنے قصور پر متنبہ ہو کر بندگی کے رویے کی طرف پلٹ آئیں


English (Sahih International)

Your Lord is most knowing of what is within yourselves. If you should be righteous [in intention] - then indeed He is ever, to the often returning [to Him], Forgiving


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 25 رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِيْ نُفُوْسِكُمْ ۭ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِيْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِيْنَ غَفُوْرًابوڑھے والدین کے ساتھ حسن سلوک کے حکم پر کماحقہ عمل کرنا آسان کام نہیں۔ بڑھاپے میں انسان پر ”ارذل عمر“ کا مرحلہ بھی آتا ہے جس کے بارے میں ہم پڑھ آئے ہیں : لِكَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَـيْــــًٔـا النحل : 70۔ ایسی کیفیت میں کبھی بچوں کی سی عادتیں لوٹ آتی ہیں اور ان کی بہت سی باتیں ناقابل عمل اور اکثر احکام ناقابل تعمیل ہوتے ہیں۔ کہیں انہیں سمجھانا بھی پڑتا ہے اور کبھی روکنے ٹوکنے کی نوبت بھی آجاتی ہے۔ ان سب مراحل میں کوشش کے باوجود کہیں نہ کہیں کوئی غلطی ہو ہی جاتی ہے اور کبھی نہ کبھی کوئی کوتاہی رہ ہی جاتی ہے۔ یہاں اس سیاق وسباق میں بتایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف تمہارے ظاہری عمل اور رویے ہی کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں کی نیتوں کو بھی جانتا ہے۔ چناچہ اگر بندے کے دل کا رجوع اللہ کی طرف ہو اور نیت اس کی نافرمانی کی نہ ہو تو چھوٹی موٹی لغزشوں کو وہ معاف فرمانے والا ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

The commentary on this ayah is given with ayah 17:22.


Connections

  • Previous: 17_24
  • Next: 17_26
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes