Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 17:23 Prev 17:21


Arabic

لَّا تَجۡعَلۡ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ فَتَقۡعُدَ مَذۡمُومٗا مَّخۡذُولٗا


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

تو اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا ورنہ ملامت زدہ اور بے یار و مدد گار بیٹھا رہ جائیگا


English (Sahih International)

Do not make [as equal] with Allah another deity and [thereby] become censured and forsaken


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 22 لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًاآئندہ دو رکوع اس لحاظ سے بہت اہم ہیں کہ ان میں تورات کے احکام عشرہ Ten Commandments کو قرآنی اسلوب میں بیان کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کے نزدیک ان احکام کے اندر تورات کی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔ ان احکام کا خلاصہ ہم سورة الانعام کے آخری حصے میں بھی پڑھ آئے ہیں۔ یہاں پر وہی باتیں ذرا تفصیل سے بیان ہوئی ہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 22 to 25.

خدا انسان کا سب کچھ ہے۔ وہ اس کا خالق بھی ہے اور مالک بھی اور رازق بھی۔ مگر خدا غیب میں ہے۔ وہ اپنے آپ کو منوانے کے لیے انسان کے سامنے نہیں آتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی جب خدا کی بڑائی اور اس کے مقابلہ میں اپنے عجز کا اقرار کرتا ہے تو وہ محض اپنے ارادہ کے تحت ایسا کرتاہے، نہ کہ کسی ظاہری دباؤ کے تحت۔

اس اعتبار سے بوڑھے ماں باپ کا معاملہ بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے خداکے معاملہ جیسا ہے۔ کیوں کہ بوڑھے ماں باپ کا اپنی اولاد کے اوپر کوئی مادی زور نہیں ہوتا۔اولاد جب اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرتی ہے تو وہ اپنے آزادانہ ذہنی فیصلہ کے تحت ایساکرتی ہے، نہ کہ مادی دباؤ کے تحت۔

موجودہ دنیا میں آدمی کا اصل امتحان یہی ہے۔ یہاں اس کو حق اور انصاف کے راستہ پر چلنا ہے۔ بغیر اس کے کہ اس کو اس کے لیے مجبور کیا گیا ہو۔ اس کو خود اپنے ارادہ کے تحت وہ کرنا ہے جو وہ اُس وقت کرتاہے جب کہ خدا اس کے سامنے اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہوجائے۔

یہ اختیارانہ عمل انسان کے لیے بڑا سخت امتحان ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت خاص سے اس کو انسان کے لیے آسان کردیا ہے۔ وہ انسان کو اس حاكم كي طرح نهيں جانچتا جو چھوٹي چھوٹي باتوں كا بھي سختي سے حساب ليتے هيں۔آدمی اگر بنیادی طورپر خدا کا وفادار ہے تو اس کی چھوٹی چھوٹی خطاؤں کو وہ نظر انداز کردیتاہے۔ انسان اگر غلطی کرکے پلٹ آئے تو وہ اس کو معاف کردیتاہے خواہ اس نے بظاہر کتنا بڑا جرم کردیا ہو۔


Connections

  • Previous: 17_21
  • Next: 17_23
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes