Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
أَلَمۡ يَرَوۡاْ إِلَى ٱلطَّيۡرِ مُسَخَّرَٰتٖ فِي جَوِّ ٱلسَّمَآءِ مَا يُمۡسِكُهُنَّ إِلَّا ٱللَّهُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
کیا اِن لوگوں نے کبھی پرندوں کو نہیں دیکھا کہ فضائے آسمانی میں کسی طرح مسخر ہیں؟ اللہ کے سوا کس نے اِن کو تھام رکھا ہے؟ اِس میں بہت نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں
English (Sahih International)
Do they not see the birds controlled in the atmosphere of the sky? None holds them up except Allah. Indeed in that are signs for a people who believe
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 79 اَلَمْ يَرَوْا اِلَى الطَّيْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِيْ جَوِّ السَّمَاۗءِ ۭ مَا يُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کے قانون کے مطابق یہ پرندے فضا میں تیر رہے ہیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 79 and 80.
پرندوں کا فضا میں اڑنا قدرت کی ایک عظیم منصوبہ بندی کے تحت ممکن ہوتاہے۔ پرواز کے مقصد کے لیے پرندوں کی نہایت موزوں بناوٹ، جس کی مشینی نقل ہوائی جہاز کی صورت میں کی گئی ہے۔ زمین کے اوپر ہوا جو پرندوں کے لیے ایسی ہی ہے جیسے کشتی کے لیے سمندر۔ زمینی کشش کی وجہ سے ہوا کا مسلسل زمین کے اوپر قائم رہنا وغیرہ۔ یہ اعلیٰ انتظامات اگر نہ ہوں تو فضا میں پرندوں کا اڑنا ممکن نہ ہوسکے۔
اس واقعہ کو گہری نظر سے دیکھا جائے تو آدمی کو ایسا معلوم ہوگا کہ گویا وہ خدا کو اپنی کائنات میں عمل کرتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔ وہ تخلیقی نظام کے اندر اس کے خالق کو پا جائے گا۔ وہ مصنوعات کے درمیان صانع کا جلوہ دیکھ لے گا۔
یہی معاملہ خود انسان کا ہے۔ گھر آدمی کے لیے سکون کا مقام ہے۔ لیکن گھر کیسے بنتا ہے۔ خدا کے بہت سے انتظامات ہیں جن کی وجہ سے زمین پر ایک گھر کا قیام ممکن ہوتاہے۔ وہ تمام تعمیری اجزاء جن کے ذریعے ایک مکان بنتا ہے، پیشگی طورپر ہماری دنیامیں رکھ دئے گئے ہیں۔ زمین میں نہایت مناسب مقدار میں قوت کشش ہے جس کی وجہ سے مکانات زمین کی سطح پر جمے کھڑے ہوتے ہیں۔ ایسا نہ ہوتو ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑتی ہوئی زمین کے اوپر مکانات اڑ جائیں۔اسی طرح وہ چیزیں جن سے آدمی ہلکے پھلکے خیمے بناتا ہے اور وہ چیزیں جن میں یہ صلاحیت ہے کہ انسان کے لباس کی صورت میں ڈھل جائیں اور اس کی زینت کا اور موسموں میںاس کی جسمانی حفاظت کا کام دیں۔
اس طرح کی تمام چیزیں اس لیے ہیں کہ آدمی کے اندر اپنے رب کی نعمتوں پر شکر کا جذبہ بیدار ہو، وہ اس کی عظمت وقدرت کے احساس سے اس کے آگے گر پڑے۔