Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 16:79 Prev 16:77


Arabic

وَٱللَّهُ أَخۡرَجَكُم مِّنۢ بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ شَيۡـٔٗا وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡأَبۡصَٰرَ وَٱلۡأَفۡـِٔدَةَ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا اس حالت میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اُس نے تمہیں کان دیے، آنکھیں دیں، اور سوچنے والے دل دیے، اس لیے کہ تم شکر گزار بنو


English (Sahih International)

And Allah has extracted you from the wombs of your mothers not knowing a thing, and He made for you hearing and vision and intellect that perhaps you would be grateful


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 78 وَاللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَـيْـــًٔـانوزائیدہ بچہ عقل و شعور اور سمجھ بوجھ سے بالکل عاری ہوتا ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ انسان کا بچہ تمام حیوانات کے بچوں سے زیادہ کمزور اور زیادہ محتاج dependent ہوتا ہے۔وَّجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْــِٕدَةَ وَالْاَفْــِٕدَةَ کا ترجمہ عام طور پر ”دل“ کیا جاتا ہے ‘ مگر میرے نزدیک اس سے مراد عقل اور شعور ہے۔ اس پر تفصیلی گفتگو ان شاء اللہ سورة بنی اسرائیل کی آیت اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓءِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْءُوْلاً کے ضمن میں ہوگی۔ آیت زیر نظر میں کانوں اور آنکھوں کا ذکر انسانی حواس senses کے طور پر ہوا ہے اور ان حواس کا تعلق عقل وَالْاَفْــِٕدَةَ کے ساتھ وہی ہے جو کمپیوٹر کے input devices کا اس کے پراسیسنگ یونٹ کے ساتھ ہوتا ہے۔ جس طرح کمپیوٹر کا پراسیسنگ یونٹ مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات data کو پر اسس کر کے اس سے کوئی نتیجہ اخذ کرتا ہے اسی طرح حواس خمسہ سے حاصل ہونے والی معلومات سے انسانی دماغ سوچ بچار کر کے کوئی نتیجہ نکالتا ہے۔ انسان کی اسی صلاحیت کو ہم عقل کہتے ہیں اور میرے نزدیک والْاَفْــِٕدَةَ سے مراد انسان کی یہی عقل ہے۔لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ یہ تمام صلاحیتیں انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں اور اللہ نے یہ نعمتیں انسان کو اس لیے عطا کی ہیں کہ وہ ان پر اللہ کا شکر ادا کرے ‘ اور اس سلسلے میں اللہ کے شکر کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ان نعمتوں کا استعمال درست طور پر کرے اور ان سے کوئی ایسا کام نہ لے جس سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا کوئی پہلو نکلتا ہو۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ بالکل عاجز اور بے سمجھ بچہ ہوتاہے۔ مگر بڑا ہو کر وہ ان حیرت انگیز قوتوں کا مالک بن جاتا ہے جن کو کان اور آنکھ اور عقل کہتے ہیں۔ یہ بھی ممکن تھا کہ آدمی جس روز پیدا ہو اسی روز اس کے اندر وہ تمام صلاحیتیں موجود ہوں جو بڑی عمر کو پہنچ کر اس کے اندر پیدا ہوتی ہیں۔

مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ صرف اس لیے کہ انسان کے اندر شکر کا جذبہ پیدا ہو۔ اوّلاً وہ اپنی ابتدائی بے بسی کی حالت کو دیکھے اور پھر یہ دیکھے کہ بعد کوکس طرح وہ ایک ترقی یافتہ حالت کو پہنچ گیا ہے۔ یہ دیکھ کر وہ خدا کی ملی ہوئی نعمت کا احساس کرے اور خدا کی احسان مندی کے جذبہ سے سرشار ہوجائے۔

کسی آدمی کے اندر یہ کیفیت صرف اس وقت پیدا ہوسکتی ہے جب کہ وہ خدا کی دی ہوئی قوتوں کو صحیح طورپر استعمال کرے۔ اس کے کان اور آنکھ اور دل بس ظاہری دنیامیں اٹک کر نہ رہ جائیں بلکہ وہ اس کے لیے ایسے روشن دان بن جائیں جن کے ذریعہ جھانک کر کوئی شخص غیب کی جھلکیوںکو دیکھ لیتا ہے۔


Connections

  • Previous: 16_77
  • Next: 16_79
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes