Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِي كُلِّ أُمَّةٖ رَّسُولًا أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱجۡتَنِبُواْ ٱلطَّـٰغُوتَۖ فَمِنۡهُم مَّنۡ هَدَى ٱللَّهُ وَمِنۡهُم مَّنۡ حَقَّتۡ عَلَيۡهِ ٱلضَّلَٰلَةُۚ فَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُكَذِّبِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا، اور اُس کے ذریعہ سے سب کو خبردار کر دیا کہ “اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو” اس کے بعد ان میں سے کسی کو اللہ نے ہدایت بخشی اور کسی پر ضلالت مسلط ہو گئی پھر ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہو چکا ہے
English (Sahih International)
And We certainly sent into every nation a messenger, [saying], “Worship Allah and avoid Taghut.” And among them were those whom Allah guided, and among them were those upon whom error was [deservedly] decreed. So proceed through the earth and observe how was the end of the deniers
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 36 وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ طاغوت کا لفظ ’ طغٰی ‘ سے مشتق ہے جس کے معنی سرکشی کے ہیں۔ لہٰذا جو کوئی اللہ کی بندگی اور اطاعت سے سرکشی اور سرتابی کر رہا ہو وہ طاغوت ہے چاہے وہ انسان ہو یا جن کسی ریاست کا کوئی ادارہ ہو آئین ہو یا خود ریاست ہو۔ بہر حال جو بھی اللہ کی اطاعت سے سرتابی کر کے اس کی بندگی سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا وہ گویا اللہ کے مقابلے میں حاکمیت کا دعویدار ہوگا اور اسی لیے طاغوت کے زمرے میں شمار ہوگا۔ طاغوت سے کنارہ کشی کا حکم سورة البقرۃ کی آیت 256 میں اس طرح آیا ہے : فَمَنْ یَّکْفُرْ بالطَّاغُوْتِ وَیُؤْمِنْم باللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰیق لاَ انْفِصَامَ لَہَا ”جس کسی نے کفر کیا طاغوت سے اور ایمان لایا اللہ پر تو یقیناً اس نے تھام لیا ایک مضبوط حلقہ جس کو ٹوٹنا نہیں ہے۔“ فَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ تم اپنے تجارتی قافلوں کے ساتھ اصحاب حجر کی بستیوں سے بھی گزرتے ہو تم نے قوم ثمود کے محلات کے کھنڈرات بھی دیکھے ہیں۔ تم قوم مدین کے انجام سے بھی واقف ہو اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ سدوم اور عامورہ کی بستیوں کے ساتھ کیا معاملہ ہوا تھا۔ یہ تمام تاریخی حقائق تمہارے علم میں ہیں اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ ان سب کو کس جرم کی سزا بھگتنا پڑی تھی۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 36 and 37.
خدا نے کہیں براہِ راست اپنے پیغمبر بھیجے اور کہیں پیغمبر کے نائب اور نمائندہ کے ذریعہ بالواسطہ طورپر اپنا پیغام پہنچانے کا انتظام کیا۔ ان تمام لوگوں نے انسان کو جس چیز کی تلقین کی وہ یہی تھی کہ عبادت کا حق صرف ایک خدا کو ہے۔ شیطان اس عبادت سے انسان کو پھیرنے کی کوشش کرتا ہے، اس لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ شیطانی ترغیبات سے بچے۔ ورنہ وہ آدمی کو جھوٹے معبودوں کی پرستش کے راستے پر ڈال دے گا۔
ہدایت اگر چہ واضح ہے۔ مگر اس کو قبول کرنے یا نہ کرنے کا انحصار تمام تر اس بات پر ہے کہ آدمی اس کے بارے میں کتنا سنجیدہ ہے۔ جو شخص ہدایت پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے گا اس کو اس کی صداقت کو پانے میں دیر نہیں لگے گی۔ مگر جو شخص اس کے بارے میں سنجیدہ نہ ہو وہ معمولی معمولی باتوں پر اٹک کر رہ جائے گا۔ ایسا آدمی کبھی حق کو نہیں پاسکتا۔