Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 16:36 Prev 16:34


Arabic

وَقَالَ ٱلَّذِينَ أَشۡرَكُواْ لَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَا عَبَدۡنَا مِن دُونِهِۦ مِن شَيۡءٖ نَّحۡنُ وَلَآ ءَابَآؤُنَا وَلَا حَرَّمۡنَا مِن دُونِهِۦ مِن شَيۡءٖۚ كَذَٰلِكَ فَعَلَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ فَهَلۡ عَلَى ٱلرُّسُلِ إِلَّا ٱلۡبَلَٰغُ ٱلۡمُبِينُ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

یہ مشرکین کہتے ہیں “اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا اُس کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے اور نہ اُس کے حکم کے بغیر کسی چیز کو حرام ٹھیراتے” ایسے ہی بہانے اِن سے پہلے کے لوگ بھی بناتے رہے ہیں تو کیا رسولوں پر صاف صاف بات پہنچا دینے کے سوا اور بھی کوئی ذمہ داری ہے؟


English (Sahih International)

And those who associate others with Allah say, “If Allah had willed, we would not have worshipped anything other than Him, neither we nor our fathers, nor would we have forbidden anything through other than Him.” Thus did those do before them. So is there upon the messengers except [the duty of] clear notification


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 35 وَقَالَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَيْءٍ نَّحْنُ وَلَآ اٰبَاۗؤُنَاان کی دلیل یہ تھی کہ اس دنیا میں تو جو اللہ چاہتا ہے وہی کچھ ہوتا ہے ‘ وہ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ہے۔ اگر وہ چاہتا کہ ہم کوئی دوسرے معبود نہ بنائیں اور ان کی پرستش نہ کریں ‘ تو کیسے ممکن تھا کہ ہم ایسا کر پاتے ؟ چناچہ اگر اللہ نے ہمیں اس سے روکا نہیں ہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اس میں اس کی مرضی شامل ہے اور اس کی طرف سے ہمیں ایسا کرنے کی اجازت ہے۔فَهَلْ عَلَي الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ ہمارے رسول اس قسم کی کٹ حجتی اور کج بحثی میں نہیں الجھتے۔ ان کی ذمہ داری ہمارا پیغام واضح طور پر پہنچا دینے کی حد تک ہے اور یہ ذمہ داری ہمارے رسول ہمیشہ سے پوری کرتے آئے ہیں۔ پیغام پہنچ جانے کے بعد اسے تسلیم کرنا یا نہ کرنا متعلقہ قوم کا کام ہے ‘ جس کے لیے ان کا ایک ایک فرد ہمارے سامنے جوابدہ ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

غافل انسان اپنے حق سے انحراف کو جائز ثابت کرنے کے لیے جو باتیں کرتا ہے، اس میں ایک بات یہ ہے کہ جب اس دنیا میں ہر چیز خدا کی مرضی سے ہوتی ہے تو ہمارا موجودہ عمل بھی خدا کی مرضی سے ہے۔ اس کی مرضی نہ ہوتی تو ہم ایسا کرہی نہ پاتے۔ اگر واقعی خدا کو ہمارے کام پسند نہ ہوتے تووہ ہمیں ایسا کام کرنے کیوں دیتا۔ پھر تو ایسا ہونا چاہیے تھا کہ جب بھی ہم اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام کریںتو وہ فوراً ہمیں روک دے۔

یہ بات آدمی صرف اس لیے کہتا ہے کہ وہ حق ناحق کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہوتا۔ اگر وہ سنجیدہ ہوتو فوراً اس کی سمجھ میںآجائے کہ اس کو موجودہ عمل کی جو چھوٹ ہے، وہ امتحان کی وجہ سے ہے، نہ کہ خدا کی پسند کی وجہ سے۔


Connections

  • Previous: 16_34
  • Next: 16_36
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes