Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
أَرَءَيۡتَ ٱلَّذِي يُكَذِّبُ بِٱلدِّينِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
تم نے دیکھا اُس شخص کو جو آخرت کی جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے؟
English (Sahih International)
Have you seen the one who denies the Recompense
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 1{ اَرَئَ یْتَ الَّذِیْ یُـکَذِّبُ بِالدِّیْنِ۔ } ”کیا تم نے دیکھا اس شخص کو جو جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے ؟“ جو نہ تو بعث بعد الموت کا قائل ہے اور نہ ہی آخرت کی جزا و سزا کو مانتا ہے۔ ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ اس زندگی کے سوا ان کی کوئی اور زندگی نہیں ہے : { وَقَالُوْا مَا ہِیَ اِلَّا حَیَاتُـنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا یُہْلِکُنَآ اِلَّا الدَّہْرُج } الجاثیۃ : 24 ”وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے کوئی اور زندگی سوائے ہماری دنیا کی زندگی کے ‘ ہم خود ہی مرتے ہیں اور خود ہی جیتے ہیں اور ہمیں نہیں ہلاک کرتا مگر زمانہ“۔ آخرت کے احتساب کا انکار کر کے انسان دراصل جائز و ناجائز اور حلال و حرام کی پابندیوں سے آزاد ہوجاتا ہے اور اس کا کردار ع ”بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست“ کے فلسفے کا چلتا پھرتا اشتہار بن کر رہ جاتا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 1 to 7.
آخرت کی پکڑ کا یقین آدمی کو نیک عمل بناتا ہے۔ جس آدمی کے اندر آخرت کی پکڑ کا یقین نہ رہے وہ نیکی کی ہر بات سے خالی رہے گا۔ وہ اللہ کی عبادت گزاری سے غافل ہوجائے گا۔ وہ بے زور آدمی کو دھکا دینے میں بھی نہیں شرمائے گا۔ وہ غریبوں کے حقوق ادا کرنے کی ضرورت نہیں سمجھے گا۔ حتی کہ وہ لوگوں کو ایسی چیز دینے کا بھی روادار نہ ہوگا جس کے دینے میں اس کا کوئی حقیقی نقصان نہیں، خواہ وہ دیا سلائی کی ایک ڈبیہ ہو یا کسی کے حق میں خیر خواہی کا ایک بول۔
Connections
- Previous: (Start of Surah)
- Next: 107_2
- Thematic: (add links here)