Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَمَا كَانَ ٱلنَّاسُ إِلَّآ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ فَٱخۡتَلَفُواْۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةٞ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ فِيمَا فِيهِ يَخۡتَلِفُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
ابتداءً سارے انسان ایک ہی امّت تھے، بعد میں انہوں نے مختلف عقیدے اور مسلک بنا لیے، اور اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ہی ایک بات طے نہ کر لی گئی ہوتی تو جس چیز میں وہ باہم اختلاف کر رہے ہیں اس کا فیصلہ کر دیا جاتا
English (Sahih International)
And mankind was not but one community [united in religion], but [then] they differed. And if not for a word that preceded from your Lord, it would have been judged between them [immediately] concerning that over which they differ
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 19 وَمَا کَان النَّاس الآَّ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَاخْتَلَفُوْا ط ”اور نہیں تھے لوگ مگر ایک ہی امت ‘ پھر بعد میں انہوں نے اختلاف کیا۔“یہ مضمون سورة البقرۃ میں بھی گزر چکا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے انسانوں کی نسل چلی ہے ‘ چناچہ جس طرح تمام انسان نسلاً ایک تھے اسی طرح نظریاتی طور پر بھی وہ سب ایک ہی امت تھے۔ بنی نوع انسان کے مابین تمام نظریاتی اختلافات بعد کی پیداوار ہیں۔ وَلَوْلاَ کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ ”اور اگر ایک بات تیرے رب کی طرف سے پہلے سے طے نہ پا چکی ہوتی“اللہ تعالیٰ نے ہر فرد اور ہر قوم کے لیے ایک اجل مقرر فر ما دی ہے۔ اسی طرح پوری کائنات کی اجل بھی طے شدہ ہے۔ اگر یہ سب کچھ طے نہ ہوچکا ہوتا :لَقُضِیَ بَیْنَہُمْ فِیْمَا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ”تو فیصلہ کردیا جاتا ان کے مابین ان تمام چیزوں میں جن میں یہ اختلاف کر رہے ہیں۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 10:18.