Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَيَعۡبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنفَعُهُمۡ وَيَقُولُونَ هَـٰٓؤُلَآءِ شُفَعَـٰٓؤُنَا عِندَ ٱللَّهِۚ قُلۡ أَتُنَبِّـُٔونَ ٱللَّهَ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِي ٱلۡأَرۡضِۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
یہ لوگ اللہ کے سوا اُن کی پرستش کر رہے ہیں جو ان کو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع، اور کہتے یہ ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں اے محمدؐ، ان سے کہو “کیا تم اللہ کو اُس بات کی خبر دیتے ہو جسے وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے نہ زمین میں؟” پاک ہے وہ اور بالا و برتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں
English (Sahih International)
And they worship other than Allah that which neither harms them nor benefits them, and they say, “These are our intercessors with Allah ” Say, “Do you inform Allah of something He does not know in the heavens or on the earth?” Exalted is He and high above what they associate with Him
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 18 وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لاَ یَضُرُّہُمْ وَلاَ یَنْفَعُہُمْ وَیَقُوْلُوْنَ ہٰٓؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰہِ ط ”اور یہ لوگ پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا یسی چیزوں کی جو نہ انہیں کوئی نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ نفع دے سکتی ہیں ‘ اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے ہاں۔“اس سے مشرکین مکہ کا بنیادی عقیدہ ظاہر ہو رہا ہے۔ وہ لوگ مانتے تھے کہ اس کائنات کا خالق اور مالک اللہ ہے۔ وہ اپنے بتوں کو کائنات کا خالق ومالک نہیں بلکہ اللہ کے قرب کا وسیلہ سمجھتے تھے۔ ان کا ایمان تھا کہ جن ہستیوں کے نام پر یہ بت بنائے گئے ہیں وہ ہستیاں اللہ کے ہاں بہت مقرب اور محبوب ہونے کے باعث اس کے ہاں ہماری سفارش کریں گی۔قُلْ اَتُنَبِّءُوْنَ اللّٰہَ بِمَا لاَ یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَلاَ فِی الْاَرْضِ ط ”آپ ﷺ کہیے کہ کیا تم اللہ کو بتانا چاہتے ہو وہ شے جو وہ نہیں جانتا ‘ نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں ؟“کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دینا چاہتے ہو جس کا اس کو خود پتا نہیں ؟ یہ وہی بات ہے جو آیۃ الکرسی کی تشریح کے ضمن میں بیان ہوچکی ہے کہ ایسی کسی شفاعت کا آخر جواز کیا ہوگا ؟ اللہ تو غائب اور حاضر سب کچھ جاننے والا ہے : یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْج وَلاَ یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ الاَّ بِمَاشَآءَ ج۔ تو پھر آخر کوئی سفارشی اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر کیا کہے گا ؟ کس بنیاد پر وہ کسی کی سفارش کرے گا ؟ کیا وہ یہ کہے گا کہ اے اللہ ! تو اس آدمی کو ٹھیک سے نہیں جانتا ‘ میں اسے بہت اچھی طرح جانتا ہوں ‘ یہ بہت اچھا اور نیک آدمی ہے ! تو کیا وہ اللہ کو وہ کچھ بتانا چاہے گا معاذ اللہ جس کو وہ خود نہیں جانتا ؟سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ”وہ بہت پاک اور بلند ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 18 and 19.
ہماری دنیا میں جو واقعات ہو رہے ہیں وہ بظاہر مادی اسباب کے تحت ہورہے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تمام واقعات کے پیچھے خدا کا تصرف کام کررہا ہے۔ اس دنیا میں کسی کوکو ئی ذاتی اختیار حاصل ہی نہیں۔ توحید یہ ہے کہ آدمی ظاہری چیزوں سے گزر کر غیب میں چھپے ہوئے خدا کو پالے۔ اس کے مقابلے میں شرک یہ ہے کہ آدمی ظاہری چیزوں میں اٹک کر رہ جائے۔ وہ چیزوں ہی کو چیزوں کے خالق کا مقام دے دے۔
اس دنیا میں خدا کے سوا کسی کے پاس نفع دینے یا نقصان پہنچانے کی طاقت نہیں۔ جو آدمی اس حقیقت کو پالیتا ہے اس کی تمام توجہ خدا کی طرف لگ جاتی ہے۔ وہ خدا ہی کی پرستش کرتا ہے۔ وہ اسی سے ڈرتا ہے اور اسی سے امیدیں قائم کرتا ہے۔ وہ اپنا سب کچھ ایک خدا کو بنالیتا ہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ چیزوں میں اٹکے ہوئے ہوں وہ اپنے اپنے ذوق کے لحاظ سے کسی غیر خدا کو اپنا خدا بنالیتے ہیں اور ان غیر خداؤں سے وہی امیدیں اور اندیشے وابستہ کرلیتے ہیں جو درحقیقت خدائے واحد کے ساتھ وابستہ کرنا چاہیے۔ اسی کی ایک صورت شفاعت کا عقیدہ ہے۔ لوگ یہ فرض کرلیتے ہیں کہ انسانوں یا غیر انسانوں میں کچھ ایسی برتر ہستیاں ہیں جو خدا کی نظر میں مقدس ہیں۔ خدا ان کی سنتاہے اور ان کی سفارش پر دنیوی رزق یا اخروی نجات کے فیصلے کرتاہے۔ مگر اس قسم کا عقیدہ باطل ہے۔ وہ خدا کی خدائی کا کمتر اندازہ ہے۔
خدا اس قسم کے ہر شرک سے پاک ہے۔ خداپنی صفات کا جو تعارف اپنی عظیم کائنات میں کرارہا ہے اس کے لحاظ سے اس قسم کے تمام عقائد بالکل بے جوڑ ہیں۔ ایسے کسی عقیدہ کا مطلب یہ ہے کہ خدا وہ نہیں ہے، جو بظاہر اپنی تخلیقی صفات کے آئینہ میں نظر آرہاہے یا پھر خدا کی صفتوں میں تضاد ہے۔ ظاہر ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی چیزممکن نہیں۔
خدا نے انسانیت کا آغاز دین فطرت سے کیا تھا۔ اس وقت تمام انسانوں کا ایک ہی دین تھا۔ اس کے بعد لوگوں نے فرق کرکے دین کے مختلف روپ بناليے۔ اس کی وجہ اس آزادی کا غلط استعمال ہے جو لوگوں کو امتحان کی غرض سے دی گئی ہے۔ اگر خدا ظاہر ہوجائے تو اس کی طاقتوں کو دیکھ کر لوگوں کی سرکشی ختم ہوجائے اور اچانک اختلاف کی جگہ اتحاد پیدا ہوجائے۔ کیوں کہ شدت خوف رایوں کے تعدد کو ختم کردیتاہے۔مگر خدا قیامت سے پہلے اس صورت حال میں مداخلت نہیں کرے گا۔ موجودہ دنیا کو خدا نے امتحان کے لیے بنایا ہے اور امتحان کی فضا باقی رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ حقیقت چھپی رہے اور لوگوں کو موقع ہو کہ وہ اپنی عقل کو صحیح رخ پر بھی استعمال کرسکیں اور غلط رخ پر بھی۔