Recitation
Next: 9_18
Arabic
مَا كَانَ لِلۡمُشۡرِكِينَ أَن يَعۡمُرُواْ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ شَٰهِدِينَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِم بِٱلۡكُفۡرِۚ أُوْلَـٰٓئِكَ حَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ وَفِي ٱلنَّارِ هُمۡ خَٰلِدُونَ
Urdu
مشرکین کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے مجاور و خادم بنیں درآں حالیکہ اپنے اوپر وہ خود کفر کی شہادت دے رہے ہیں ان کے تو سارے اعمال ضائع ہو گئے اور جہنم میں انہیں ہمیشہ رہنا ہے
English
It is not for the polytheists to maintain the mosques of Allah [while] witnessing against themselves with disbelief. [For] those, their deeds have become worthless, and in the Fire they will abide eternally
Tafsir — Bayan ul Quran
اس سوره کی ابتدائی پانچ آیتیں وہ ہیں جو پیغمبر اسلام پر سب سے پہلے نازل ہوئیں ۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے معمولی مادی اجزاء سے پیدا کیا۔ پھر اس کو یہ نادر صلاحیت دی کہ وہ پڑھے اور الفاظ کے ذریعہ معانی کا ادراک کرسکے۔ پھر انسان کو یہ مزید صلاحیت دی گئی کہ وہ قلم کو استعمال کرے اور اس طرح اپنے علم کو مدون اور محفوظ کرسکے۔ قراءت کی صلاحیت اگر آدمی کو خود پڑھنے کے قابل بناتی ہے تو قلم اس کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے علم کو وسیع پیمانہ پر دوسروں تک پہنچا سکے۔جو لوگ حق کے مقابلہ میں سرکشی کریں اور حق کا راستہ اختیار کرنے والوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں ، ان کا انجام بہت برا ہے۔ ایسے حالات میں حق کے داعی کا اصل سہارا یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کرے۔ وہ لوگوں سے محروم ہو کر خدا سے پائے، وہ لوگوں سے دور ہو کر لوگوں کے خدا سے قریب ہوجائے۔