Recitation

Next: 9_17


Arabic

أَمۡ حَسِبۡتُمۡ أَن تُتۡرَكُواْ وَلَمَّا يَعۡلَمِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ جَٰهَدُواْ مِنكُمۡ وَلَمۡ يَتَّخِذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَا رَسُولِهِۦ وَلَا ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَلِيجَةٗۚ وَٱللَّهُ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ


Urdu

کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی چھوڑ دیے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون وہ لوگ ہیں جنہوں نے (اس کی راہ میں) جاں فشانی کی اور اللہ اور رسول اور مومنین کے سوا کسی کو جگری دوست نہ بنایا، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے


English

Do you think that you will be left [as you are] while Allah has not yet made evident those among you who strive [for His cause] and do not take other than Allah, His Messenger and the believers as intimates? And Allah is Acquainted with what you do


Tafsir — Bayan ul Quran

موجودہ دنیا میں آدمی جب کسی چیز کو اپنی زندگی کا مقصد بناتاہے تو اس کو حاصل کرنے میں طرح طرح کے مسائل اور تقاضے سامنے آتے ہیں ۔ اگر آدمی کو اپنا مقصد عزیز ہے تو وه ان مسائل کو عبور کرنے اور ان تقاضوں کو پورا کرنے میں اپنی ساری قوت لگا دیتاہے۔ اسی کا نام جہاد ہے۔ یہ جہاد اس دنیا میں ہر ایک کو پیش آتا ہے۔ ہر آدمی کو جہاد کی سطح پر اپنی طلب کا ثبوت دینا پڑتاہے اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتاہے کہ وہ اپنی طلب میں کامیاب ہو۔ فرق یہ ہے کہ غیر مومن دنیا کی راہ میں جہاد کرتا ہے اور مومن آخرت کی راہ میں ۔ یہی جہاد یہ ثابت کرتاہے کہ آدمی اپنے مقصد میں کتنا سنجیدہ ہے۔ ایک شخص جو ایمان کا مدعی ہو اس کے سامنے بار بار مختلف مواقع آتے ہیں جو اس کے دعوے کا امتحان ہوں ۔ کبھی اس کا دل کسی کے خلاف بغض وحسد کے جذبات سے متاثر ہونے لگتا ہے اور اس کا ایمان اس سے کہتا ہے کہ اس قسم کے تمام جذبات کو اپنے اندر سے نکال دو۔ کبھی اس کی زبان پر ناپسندیدہ کلمات آتے ہیں اور ایمان کا تقاضا یہ ہوتاہے کہ اس وقت اپنی زبان کو پکڑ لیا جائے۔ کبھی معاملات کے دوران کسی کو ایسا حق دینا پڑتاہے جو قلب کو بالکل ناگوار ہو مگر ایمان یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ حق دار کو انصاف کے مطابق اس کاپورا حق پہنچایا جائے۔ اسی طرح اسلام کی دعوت کبھی ایسے موڑ پر پہنچ جاتی ہے کہ ایمان یہ کہتا ہے کہ اس کو کامیاب بنانے کے ليے اپنی جان ومال قربان کردو۔ ایسے تمام مواقع پر گریز یا فرار سے بچنا اورہر قیمت پر ایمان واسلام کے تقاضے پورے کرتے رہنا، اسی کا نام جہاد ہے۔ جب کوئی شخص اسلام کے ليے مجاہدبن جائے تو اس کا تمام تر نفسیاتی تعلق اللہ اور رسول اور اہل ایمان سے ہوجاتا ہے۔ وہ ان کے سوا کسی کو اپنا ولیجہ نہیں بناتا۔ وَلَجَ کے معنی ہیں داخل ہونا۔ ولیجہ کسی وادی کے اس غار کو کہتے ہیں جہاں راستہ چلنے والے بارش وغیرہ سے پناہ لیں ۔ اسی سے ولیجہ ہے، یعنی ولی دوست۔ موجودہ دنیا میں جب بھی آدمی کسی وسیع تر مقصد کو اپناتا ہے تو اس کو لازماً ایساکرنا پڑتاہے کہ وہ اپنے مقصد کی مرکزیت سے وابستہ ہو۔ وہ اپنے قائد کا مکمل وفادار بنے۔ وہ اس راہ کے ساتھیوں سے پوری طرح جڑ جائے۔ مقصدیت کے احساس کے ساتھ یہ چیزیں لازم و ملزوم ہیں ۔ ان کے بغیر با مقصد زندگی کا دعویٰ بالکل جھوٹا ہے۔ اسی طرح آدمی جب دین کو سنجیدگی کے ساتھ اپنی زندگی میں داخل کرے گا تو لازمی طورپر ایسا ہوگا کہ خدا اور رسول اور اہلِ ایمان اس کا ’’ولیجہ‘‘ بن جائیں ۔ وہ ہر اعتبار سے ان کے ساتھ جڑ جائے گا۔ سنجیدگی کے ساتھ دین اختیار کرنے والے کے ليے اللہ اور رسول اور اہل ایمان، عملی طور پر، ایسی وحدت کے اجزاء ہیں جن کے درمیان تقسیم ممکن نہیں ۔ اس معاملہ کی نزاکت بہت بڑھ جاتی ہے جب یہ سامنے رکھا جائے کہ اس کی جانچ کرنے والا وہ ہے جس کو کھلے اور چھپے کا علم ہے، وہ ہر آدمی سے اس کی حقیقت کے اعتبار سے معاملہ کرے گا، نہ کہ اس کے ظاہری رویہ کے اعتبار سے۔


Connections

  • Previous: 9_15
  • Next: 9_17
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes