Recitation

Next: 7_158


Arabic

ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلرَّسُولَ ٱلنَّبِيَّ ٱلۡأُمِّيَّ ٱلَّذِي يَجِدُونَهُۥ مَكۡتُوبًا عِندَهُمۡ فِي ٱلتَّوۡرَىٰةِ وَٱلۡإِنجِيلِ يَأۡمُرُهُم بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَىٰهُمۡ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّيِّبَٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ ٱلۡخَبَـٰٓئِثَ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ إِصۡرَهُمۡ وَٱلۡأَغۡلَٰلَ ٱلَّتِي كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡۚ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِهِۦ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَٱتَّبَعُواْ ٱلنُّورَ ٱلَّذِيٓ أُنزِلَ مَعَهُۥٓ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ


Urdu

(پس آج یہ رحمت اُن لوگوں کا حصہ ہے) جو اِس پیغمبر، نبی امی کی پیروی اختیار کریں جس کا ذکر اُنہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے وہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال او ر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے لہٰذا جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت اور نصرت کریں اور اُس روشنی کی پیروی اختیار کریں جو اس کے ساتھ نازل کی گئی ہے، وہی فلاح پانے والے ہیں


English

Those who follow the Messenger, the unlettered prophet, whom they find written in what they have of the Torah and the Gospel, who enjoins upon them what is right and forbids them what is wrong and makes lawful for them the good things and prohibits for them the evil and relieves them of their burden and the shackles which were upon them. So they who have believed in him, honored him, supported him and followed the light which was sent down with him - it is those who will be the successful


Tafsir — Bayan ul Quran

بنی اسرائیل دیکھتے چلے آرہے تھے کہ جتنے نبی آتے ہیں وہ سب ان کی اپنی قوم میں آتے ہیں۔ آخری رسول خدا کے منصوبہ کے مطابق بنی اسماعیل میں آنے والا تھا اس ليے خدا نے بنی اسرائیل کے انبیاء کے ذریعے انھیں پہلے سے اس کی خبر کردی۔ ان کی کتابوں میں کثرت سے اس کی پیشین گوئیاں ابھی تک موجود ہیں۔ ایسا اس ليے ہوا تاکہ جب آخری رسول آئے تو وہ کسی بڑے فتنہ میں نہ پڑیں اور بہ آسانی اس کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔ پیغمبر اسلام پڑھے لکھے نہ تھے۔ آپ امی رسول تھے۔ اُمّیت کے ساتھ پیغمبری، جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آخری اور انتہائی صورت میں جمع ہوئی یہی ہمیشہ کے ليے اللہ تعالیٰ کی سنت ہے۔ معرفت خداوندی کا اظہار ہمیشہ ’’امیت‘‘ کی سطح پر ہوتا ہے۔ یعنی وہ کسی ایسے شخص کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے جو دنیوی معیار کے لحاظ سے اس قسم کے عظیم کام کا اہل نہ سمجھا جاتا ہو۔ تاریخ میں کبھی ایسا نہیںہوا کہ خدا نے بقراط اور افلاطون کو اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا ہو۔ دین کی اصل روح اللہ کا خوف اور آخرت کی فکر ہے۔ مگر بعد کے زمانہ میں جب اندرونی روح سرد پڑتی ہے تو ظواہر کا زور بہت بڑھ جاتا ہے۔ اب غیر ضروری موشگافیاں کرکے نئے نئے مسائل بنائے جاتے ہیں۔ روحانیت کے نام پر مشقوں اور ریاضتوںکا ایک پورا ڈھانچہ کھڑا کرلیا جاتا ہے۔ عوامی توہمات مقدس ہو کر نئی شریعت کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ یہود کا یہی حال ہوچکا تھا۔ انھوں نے خداکے دین کے نام پر توہمات اور جکڑ بندیوں کا ایک خود ساختہ ڈھانچہ بنالیا تھا اور اس کو خدا کا دین سمجھتے تھے۔ پیغمبر اسلام نے ان کے سامنے دین کو اس کی فطری صورت میں پیش کیا۔ غیر ضروری پابندیوں کو ختم کرکے سادہ اور سچے دین کی طرف ان کی رہنمائی فرمائی۔ پیغمبر جب آتا ہے تو سب سے بڑی نیکی یہ ہوتی ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے۔ مگر یہ ایمان عام معنوں میں محض ایک کلمہ پڑھنا نہیں ہے۔ یہ بے روح ڈھانچہ والے دین سے نکل کر زندہ شعور والے دین میں داخل ہونا ہے۔ سابقہ مذہبی ڈھانچہ سے آدمی کی وابستگی محض تاریخی روایات یا نسلی رواج کے زور پر ہوتی ہے۔ مگر نئے پیغمبر کے دین کو جب وہ قبول کرتاہے تو وہ اس کو شعوری فیصلہ کے تحت قبول کرتا ہے، وہ رسم سے نکل کر حقیقت کے دائرہ میں داخل ہوتا ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ سادہ بات ہر دور میں انسان کے ليے مشکل ترین بات ثابت ہوئی ہے۔


Connections

  • Previous: 7_156
  • Next: 7_158
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes