Recitation
Next: 7_157
Arabic
۞وَٱكۡتُبۡ لَنَا فِي هَٰذِهِ ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةٗ وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِ إِنَّا هُدۡنَآ إِلَيۡكَۚ قَالَ عَذَابِيٓ أُصِيبُ بِهِۦ مَنۡ أَشَآءُۖ وَرَحۡمَتِي وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٖۚ فَسَأَكۡتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلَّذِينَ هُم بِـَٔايَٰتِنَا يُؤۡمِنُونَ
Urdu
اور ہمارے لیے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجیے اور آخرت کی بھی، ہم نے آپ کی طرف رجوع کر لیا” جواب میں ارشاد ہوا “سزا تو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں، مگر میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے، اور اُسے میں اُن لوگوں کے حق میں لکھوں گا جو نافرمانی سے پرہیز کریں گے، زکوٰۃ دیں گے اور میری آیات پر ایمان لائیں گے
English
And decree for us in this world [that which is] good and [also] in the Hereafter; indeed, we have turned back to You.” [Allah] said, “My punishment - I afflict with it whom I will, but My mercy encompasses all things.” So I will decree it [especially] for those who fear Me and give zakah and those who believe in Our verses
Tafsir — Bayan ul Quran
بنی اسرائیل کے بچھڑا بنانے سے یہ ظاہر ہوا تھا کہ ان کے اندر خدا پر وہ یقین نہیں ہے جو ہونا چاہیے۔ چنانچہ ان کو پہاڑ پر بلایا گیا۔ حضرت موسیٰ مقرره وقت کے مطابق بنی اسرائیل کے 70نمائندہ افراد کو لے کر دوبارہ کوہ طورپر گئے۔ وہاں خدا نے گرج چمک اور زلزلہ کے ذریعے ایسے حالات پیدا كيے جس سے بنی اسرائیل کے لوگوں کے اندر انابت وخشیت پیداہو۔ چنانچه اس کے بعد وہ خداکے سامنے روئے گڑگڑائے اور اجتماعی توبہ کی۔ انھوںنے عہد کیا کہ وہ تورات کے احکام پر سچائی کے ساتھ عمل کریں گے۔ اس موقع پر حضرت موسیٰ نے دعا کی ’’اے ہمارے رب، ہمارے ليے دنیا اور آخرت میں بھلائی لکھ دے‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا ’’میں جس پر چاہتاہوں اپنا عذاب ڈالتا ہوں، اور میری رحمت ہر چیز کو شامل ہے‘‘ حضرت موسی کی دعا بحیثیت مجموعی اپنی پوری امت کے ليے تھی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے جواب میں واضح کردیا کہ نجات اور کامیابی کوئی گروہی چیز نہیں ہے۔ اس کا فیصلہ ہر ہر فرد کے ليے اس کے ذاتی عمل کی بنیاد پر ہوتاہے۔ اگر چہ میںتمام رحم کرنے والوں سے زیادہ رحیم ہوں۔ مگر جو شخص عمل صالح کا ثبوت نہ دے وہ میري پکڑ سے بچ نہیں سکتا، خواہ وہ کسی بھی گروہ سے تعلق رکھتا ہو۔ خدا کی کتاب ہدایت ورحمت ہوتی ہے۔ وہ دنیا کی زندگی میں آدمی کے ليے بہترین رہنما ہے اور آخرت میں خدا کی رحمت کا یقینی ذریعہ۔ مگر خدا کی کتاب کا یہ فائدہ صرف اس کو ملتا ہے جو ’’ڈر‘‘ رکھتا ہو، جس کو اندیشہ لگا ہوا ہو کہ معلوم نہیں خدا میرے ساتھ کیا معاملہ کرے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سچے طالب حق ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے جب حق آتاہے تو وہ کسی قسم کی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا ہوئے بغیر اس کو پالیتے ہیں۔ اس کے بعد خدا ان کے خوف اور امید کا مرکز بن جاتا ہے۔ ان کا سب کچھ خدا کے ليے وقف ہوجاتا ہے۔ ان کا ڈر ان کے شعور کو بیدار کردیتا ہے۔ ان کی نگاہ سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں۔ خدا کی طرف سے ظاہر ہونے والی نشانیوں کو پہچاننے میں وہ کبھی نہیں چوکتے۔ وہ اندیشہ کی نفسیات میں جیتے ہیں، نہ کہ قناعت کی نفسیات میں۔