Recitation
Next: 46_10
Arabic
قُلۡ مَا كُنتُ بِدۡعٗا مِّنَ ٱلرُّسُلِ وَمَآ أَدۡرِي مَا يُفۡعَلُ بِي وَلَا بِكُمۡۖ إِنۡ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَيَّ وَمَآ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٞ مُّبِينٞ
Urdu
اِن سے کہو، “میں کوئی نرالا رسول تو نہیں ہوں، میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا، میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کر دینے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں
English
Say, “I am not something original among the messengers, nor do I know what will be done with me or with you. I only follow that which is revealed to me, and I am not but a clear warner
Tafsir — Bayan ul Quran
ابتداء ً جو لوگ رسول الله صلي الله عليه وسلم كے ساتھی بنے ان ميں كئي ایسے لوگ تھے جو غريب اور غلام طبقه سے تعلق ركھتے تھے۔ مثلاً بلال ، عمار ، صهيب ، خباب ، وغيره۔ اسي كے ساتھ آپ پر ايمان لانے والوں ميں وه لوگ بھي تھے جو عرب كے معزز خاندانوں سے تعلق ركھتے تھے۔ مثلاً ابو بكر بن أبي قحافه ،عثمان بن عفان، علي ابن ابي طالب، وغيره۔مگر آپ كے مخالفين صرف پهلي قسم كے لوگوں كا ذكر كرتے تھے، وه دوسري قسم كے لوگوں كا ذكر نهيں كرتے تھے۔ اس كي وجه يه هے كه آدمي كو جب كسي سے ضد هوجاتي هے تو وه اس كے بارے ميں يك رخا هوجاتا هے۔ وه اس كے اچھے پهلوؤں كو نظر انداز كرديتا هے اور صرف انھيں پهلوؤں كا ذكر كرتا هے جس كے ذريعه اسے اس كي تحقير كا موقع ملتا هو۔ اسي طرح يه ايك واقعه تھا كه رسول الله صلي الله عليه وسلم كي دعوت وهي تھي جو پچھلے تمام پيغمبروں كي دعوت تھي۔ آپ ايك ابدي صداقت كو لے كر آئے تھے۔اس واقعه كو آپ كے مخالفين ان لفظوں ميں بھي بيان كرسكتے تھے كه ’’يه ايك بهت پرانا سچ هے‘‘۔ مگر انھوں نے يه كهه ديا كه ’’يه ايك بهت پرانا جھوٹ هے‘‘۔ ناانصافي كي يه قسم قديم زمانه كے انسانوں ميں بھي پائي جاتي تھي اور آج بھي وه پوري طرح لوگوںكے اندر پائي جارهي هے۔