Recitation

Next: 42_16


Arabic

فَلِذَٰلِكَ فَٱدۡعُۖ وَٱسۡتَقِمۡ كَمَآ أُمِرۡتَۖ وَلَا تَتَّبِعۡ أَهۡوَآءَهُمۡۖ وَقُلۡ ءَامَنتُ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِن كِتَٰبٖۖ وَأُمِرۡتُ لِأَعۡدِلَ بَيۡنَكُمُۖ ٱللَّهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمۡۖ لَنَآ أَعۡمَٰلُنَا وَلَكُمۡ أَعۡمَٰلُكُمۡۖ لَا حُجَّةَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُۖ ٱللَّهُ يَجۡمَعُ بَيۡنَنَاۖ وَإِلَيۡهِ ٱلۡمَصِيرُ


Urdu

چونکہ یہ حالت پیدا ہو چکی ہے اس لیے اے محمدؐ، اب تم اُسی دین کی طرف دعوت دو، اور جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اُس پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جاؤ، اور اِن لوگو ں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو، اور اِن سے کہہ دو کہ: “اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اُس پر ایمان لایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں اللہ ہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں اللہ ایک روز ہم سب کو جمع کرے گا اور اُسی کی طرف سب کو جانا ہے


English

So to that [religion of Allah] invite, [O Muhammad], and remain on a right course as you are commanded and do not follow their inclinations but say, “I have believed in what Allah has revealed of the Qur’an, and I have been commanded to do justice among you. Allah is our Lord and your Lord. For us are our deeds, and for you your deeds. There is no [need for] argument between us and you. Allah will bring us together, and to Him is the [final] destination


Tafsir — Bayan ul Quran

يهاں ’’كتاب‘‘ سے مراد وه اصل دين هے جو پيغمبروں كے ذريعه بھيجا گيا۔ ’’اهواء‘‘ سے مراد وه خود ساخته اضافے هيں جو انسانوں نے خود اپني طرف سے دين حق ميں كيے۔ پيغمبر كو حكم دياگيا كه تم بس اصل دين پر جمے رهو۔حتي كه دعوتي مصلحت كي بناپر بھي تم كو ايسا نهيں كرنا هےكه لوگوں كے خود ساخته دين كے ساتھ رعايت كرنے لگو۔ تمھاراكام عدل كرنا هے۔ يعني مذهبي اختلافات كا فيصله كركے يه بتانا كه حق كيا هے اور باطل كيا۔ كون سا حصه وه هےجو خدا كي طرف سے هے اور كون سا حصه انساني آميزش كے تحت دين ميں شامل كرليا گيا هے۔ ’’همارے اور تمھارے درميان كوئي جھگڑا نهيں‘‘ كا مطلب يه هے كه تمھارے جھگڑنے كے باوجود هم ايسا نهيں كريں گے كه هم بھي تم سے جھگڑنے لگيں۔ تم منفي رويه اختيار كرو تب بھي هم يك طرفه طورپر اپنے مثبت رويه پر قائم رهيں گے۔ داعي كي ذمه داري صرف حق كا پيغام پهنچانے كي هے۔ اس كے علاوه جو چيزيں هيں ان كو وه خدا كے حواله كرديتا هے۔ جو لوگ حق كو قبول كرليں ان كو تنگ كرنا اور ان كو بے كار بحثوں ميں الجھانا نهايت ظالمانه كام هے۔ ايسا كرنے والے اپنے آپ كو اس خطره ميں مبتلا كررهے هيں كه آخرت ميں ان پر خدا كا غضب هو اور ان كو سخت عذاب ميں ڈال ديا جائے۔


Connections

  • Previous: 42_14
  • Next: 42_16
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes