Recitation

Next: 42_15


Arabic

وَمَا تَفَرَّقُوٓاْ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡعِلۡمُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةٞ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗى لَّقُضِيَ بَيۡنَهُمۡۚ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ أُورِثُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡ لَفِي شَكّٖ مِّنۡهُ مُرِيبٖ


Urdu

لوگوں میں جو تفرقہ رو نما ہوا وہ اِس کے بعد ہوا کہ اُن کے پاس علم آ چکا تھا، اور اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے اگر تیرا رب پہلے ہی یہ نہ فرما چکا ہوتا کہ ایک وقت مقرر تک فیصلہ ملتوی رکھا جائے گا تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا اور حقیقت یہ ہے کہ اگلوں کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اُس کی طرف سے بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں


English

And they did not become divided until after knowledge had come to them - out of jealous animosity between themselves. And if not for a word that preceded from your Lord [postponing the penalty] until a specified time, it would have been concluded between them. And indeed, those who were granted inheritance of the Scripture after them are, concerning it, in disquieting doubt


Tafsir — Bayan ul Quran

علم آنے كے بعد متفرق هونے كا مطلب يه هے كه دين حق كي دعوت بلند هو اور پھر بھي آدمي اس سے الگ رهے۔ يا اس كا مخالف بن كر كھڑا هوجائے۔ رسول الله صلي الله عليه وسلم كے ذريعه الله تعالي نے دين كو اس كے خالص انداز ميں كھولا۔ اب چاهئے تھا كه تمام وه لوگ جو خدا كے طالب هيں وه آپ كے ساتھ جڑ جائيں۔ مگر وه آپ كے ساتھ جڑنے كے لیے تيار نهيں هوئے۔ پچھلے نبيوں كے ساتھ اپنے آپ كو منسوب كركے وه لوگوں كے درميان دين داري كا مقام حاصل كئے هوئے تھے۔ انھوں نے سمجھا كه يهي ان كے لیے كافي هے حالانكه جب دين صحيح كي دعوت بلند هو تو تمام لوگوں كے لیے لازم هوجاتا هے كه وه اپنے گھروندوں كو ڈھا ديں اور دين صحيح كے ساتھ اپنے آپ كو وابسته كريں۔ جو لوگ ايسا نه كريں وه خدا كے نزديك مجرم هيں ، خواه وه غير دين دار هوں يا بظاهر دين دار۔ دينِ حق كي دعوت جب اٹھتي هے تو كچھ لوگ ’’بغي‘‘ كي بنياد پر اس كے منكر بن جاتے هيں۔ اور كچھ لوگ شك كي بنياد پر اس سے دور رهتے هيں۔ بغي سے مراد حسد اور تكبر هے۔ يه ان لوگوں كا معامله هے جو ماحول ميں بڑائي كا مقام حاصل كيے هوئے هوں۔ حق كو ماننے ميں انھيں بڑائي كے مقام سے نيچے اترنا پڑتا هے۔ چونكه وه اپنے آپ كو چھوٹا كرنے پر راضي نهيں هوتے اس ليے وه حق كي دعوت كو چھوٹا كرنے ميں سرگرم هوجاتے هيں تاكه اپنے موقف كو جائز ثابت كرسكيں۔ شك اور تردد كا معامله اكثر عوام الناس كے ساتھ پيش آتا هے۔ داعي كي بات انھيں دليل كي سطح پر وزني معلوم هوتي هے۔مگر ان اكابر كو چھوڑنا بھي ان كے لیے مشكل هوتا هے جن كي عظمت ان كے ذهن پر پهلے سے قائم هوچكي هو۔ يه دو طرفه تقاضے ان كے لیے آخري فيصله تك پهنچنے ميں ركاوٹ بن جاتے هيں۔ پهلے گروه نے اگر تكبر كي نفسيات كے تحت حق كو نظر انداز كيا تھا تو دوسرا گروه شك كي نفسيات كے تحت اس كو اختيار نهيں كرپاتا۔ حق كو قبول كرنے سے يه بھي محروم رهتا هے اور وه بھي ۔


Connections

  • Previous: 42_13
  • Next: 42_15
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes