Recitation
Next: 4_92
Arabic
سَتَجِدُونَ ءَاخَرِينَ يُرِيدُونَ أَن يَأۡمَنُوكُمۡ وَيَأۡمَنُواْ قَوۡمَهُمۡ كُلَّ مَا رُدُّوٓاْ إِلَى ٱلۡفِتۡنَةِ أُرۡكِسُواْ فِيهَاۚ فَإِن لَّمۡ يَعۡتَزِلُوكُمۡ وَيُلۡقُوٓاْ إِلَيۡكُمُ ٱلسَّلَمَ وَيَكُفُّوٓاْ أَيۡدِيَهُمۡ فَخُذُوهُمۡ وَٱقۡتُلُوهُمۡ حَيۡثُ ثَقِفۡتُمُوهُمۡۚ وَأُوْلَـٰٓئِكُمۡ جَعَلۡنَا لَكُمۡ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطَٰنٗا مُّبِينٗا
Urdu
ایک اور قسم کے منافق تمہیں ایسے ملیں گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی، مگر جب کبھی فتنہ کا موقع پائیں گے اس میں کود پڑیں گے ایسے لوگ اگر تمہارے مقابلہ سے باز نہ رہیں اور صلح و سلامتی تمہارے آگے پیش نہ کریں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو جہاں وہ ملیں انہیں پکڑو اور مارو، ان پر ہاتھ اٹھانے کے لیے ہم نے تمہیں کھلی حجت دے دی ہے
English
You will find others who wish to obtain security from you and [to] obtain security from their people. Every time they are returned to [the influence of] disbelief, they fall back into it. So if they do not withdraw from you or offer you peace or restrain their hands, then seize them and kill them wherever you overtake them. And those - We have made for you against them a clear authorization
Tafsir — Bayan ul Quran
آدمی جب اللہ کے دین کو اختیار کرتا ہے تو اس کے بعد اس کی زندگی میں بار بار ایسے مرحلے آتے ہیں جہاں یہ جانچ ہوتی ہے کہ وہ اپنے فیصلہ میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔ اسی سلسلے کا ایک امتحان ’’ہجرت‘‘ ہے۔ یعنی دین کی راہ میں جب دنیا کے فائدے اور مصلحتیں حائل نظر آئیں تو فائدوں اور مصلحتوں کو چھوڑ کر اللہ کی طرف بڑھ جانا۔ حتی کہ اگر رشتہ دار اور گھر بار کو چھوڑنے کی ضرورت پیش آئے تو اس کو بھی چھوڑ دینا۔ ایسا نازک موقع پیش آنے کی صورت میں اگر ایسا ہو کہ آدمی اپنے فائدوں اور مصلحتوں کو نظر انداز کرکے حق کی طرف بڑھے تو اس نے حق کے ساتھ اپنے قلبی تعلق کو پختہ کیا۔ اس کے برعکس، اگر ایسا ہو کہ ایسے موقع پر آدمی اپنے فائدوں اور مصلحتوں سے لپٹا رہے تو اس نے حق کے ساتھ اپنے قلبی تعلق کو کمزور کیا۔ جو شخص پہلی راہ پر چلے اس کے اندر حق کی مزید قبولیت کا مادہ پیدا ہوتا ہے، وہ برابر حق کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔ اور جو شخص دوسری راہ اختیار کرے اس کے اندر حق کی قبولیت کا مادہ گھٹتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اتنا بے حس ہوجاتا ہے کہ اس کے اندر حق کو قبول کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔ جب دین کے سخت تقاضے سامنے آتے ہیں تو لوگوں میں مختلف گروہ بن جاتے ہیں۔ کوئی مخلصین کا ہوتا ہے اور کوئی مخالفین کا۔ اور کچھ ایسے لوگوں کا جو ظاہر میں حق سے قریب مگر اندر سے اس سے دور ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ اہلِ ایمان ہر ایک سے ا س کے حسب حال معاملہ کریں۔ وہ فتنہ کے استیصال میں سخت اور اخلاقی ذمہ داریوں کو نبھانے میں نرم ہوں۔ وہ کمزوروں کے ساتھ رعایت کا سلوک کریں۔ دوسروں سے متاثر ہونے کے بجائے خود ان کو متاثر کرنے کی کوشش کریں۔ کسی کو اگر اللہ خاموش کرکے بٹھا دے تو اس سے بلا ضرورت لڑائی نہ چھیڑیں۔